رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

15:27 1.7.2020

برازیل میں کرونا سے اموات 60 ہزار کے قریب، کیسز 14 لاکھ سے زیادہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

لاطینی امریکہ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی وبا سے 1271 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی کل تعداد لگ بھگ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

برازیل میں 'کووڈ 19' کے 14 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 59 ہزار 656 ہے۔ امریکہ کے بعد برازیل دنیا بھر میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

18:02 1.7.2020

کرونا وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد قطر میں پابندیاں نرم

قطر میں کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے کے بعد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں۔ بدھ کو حکام نے ریستوران، مساجد، پارکس اور دیگر عوامی مقامات کو محدود وقت کے لیے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

حکام کے مطابق میوزیم اور لائبریریاں بھی محدود وقت کے لیے کھلی رہیں گی۔

قطر میں کرونا وائرس کے 96 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 81 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

02:55 2.7.2020

کرونا وائرس صورت بدل رہا ہے، زیادہ مہلک ہورہا ہے

امریکہ کے شہر شکاگو میں کرونا وائرس کے اولین کیسز جنوری میں ظاہر ہوئے تو ان کی جینیاتی صورت ویسی تھی جیسی چند ہفتے پہلے چین میں جنم لینے والے جرثومے کی۔

لیکن جب ڈاکٹر ایگون اوزر نے مقامی مریضوں کے نمونے جانچنا شروع کیے تو انھیں معلوم ہوا کہ وائرس کا جینیاتی ڈھانچہ تبدیل ہوا ہے۔

ایگون اوزر نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ وائرس میں بار بار تبدیلی ہورہی ہے۔ اس تبدیل شدہ صورت کا تعلق یورپ اور نیویارک میں پھوٹنے والی وبا سے تھا اور اس نے آخرکار شکاگو کو لپیٹ میں لے لیا۔ مئی تک ایگون اوزر نے جتنے نمونے جمع کیے، ان میں سے 95 فیصد میں وہی تبدیل شدہ وائرس پایا گیا۔

ایک نظر دیکھنے سے یہ تبدیلی غیر اہم لگتی ہے۔ وائرس کی سطح پر ایک پروٹین کو بنانے میں 1300 امینو ایسڈز استعمال ہوتے ہیں۔ تبدیل شدہ وائرس میں ان میں سے صرف ایک یعنی نمبر 634 کی جینیاتی ہدایات پر فرق پڑا ہے۔ اس وجہ سے اسپارٹک ایسڈ یا ڈی بدل کر گلیسین یا جی میں بدل گیا ہے۔

لیکن اس کا مقام اہم ہے کیونکہ یہ تبدیلی جینوم کے اس حصے میں ہوئی ہے جہاں اہم ترین اسپائیک پروٹین کی معلومات ذخیرہ ہوتی ہے۔ یہ وہ ڈھانچہ ہے جو کرونا وائرس کو تاج جیسی صورت دیتا ہے اور اسے نقب لگانے والے چور کی طرح انسانی خلیوں میں گھسنے کی اجازت فراہم کرتا ہے۔

عام ہوجانے والا وائرس اسی تبدیل شدہ صورت کا ہے۔ دنیا بھر میں تحقیق کرنے والوں نے مشترکہ ڈیٹابیس میں جو 50 ہزار نمونے جمع کیے ہیں ان میں سے 70 فیصد اسی تبدیل شدہ وائرس کے ہیں۔ اس کا پورا ڈی 614 جی ہے لیکن سائنس داں اسے صرف جی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

02:57 2.7.2020

فائزر اور بایو این ٹیک کی ممکنہ ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج

امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن فرم بایو این ٹیک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ایک نئی ممکنہ ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگائی گئی، ان کے جسم میں ایک ماہ کے اندر اینٹی باڈیز کی سطح، شفایاب ہوجانے والے مریضوں کے خون جتنی یا اس سے بھی زیادہ پائی گئی۔

یہ آزمائش مختصر پیمانے کی تھی جس میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 45 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا۔ ان افراد نے انجکشن کی جگہ پر درد اور ہلکے بخار کی شکایات بیان کیں جو ویکسین تجربات میں معمول کے اثرات تھے۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مدافعتی ردعمل کتنا عرصہ رہے گا اور انسانوں کو وائرس سے تحفظ کے لیے کس سطح کی قوت مدافعت درکار ہوگی۔

فائزر اور بایو این ٹیک کرونا وائرس کی چار ممکنہ ویکسینز پر کام کررہی ہیں۔ بدھ کو جس ویکیسن کے بارے میں بتایا گیا اس کا نام بی این ٹی 162 بی ون ہے اور باقی تینوں ممکنہ ویکسینز کے مقابلے میں اس پر زیادہ پیشرفت ہوچکی ہے۔

تحقیق کرنے والے ابتدائی ڈیٹا دیکھ کر بہتر ممکنہ ویکسین کا انتخاب کریں گے اور اس کی مقدار طے کرنے کے بعد وسیع پیمانے پر آزمائش کریں گے جس میں 30 ہزار افراد کو شامل کیا جائے گا۔

اگر اس منصوبے کی منظوری مل گئی تو اگلی آزمائش اسی مہینے کے آخر میں شروع کی جاسکتی ہے۔

فائزر اور بایو این ٹیک کا کہنا ہے کہ وہ سال کے آخر تک ویکسین کی 10 کروڑ اور 2021 کے آخر تک ایک ارب 20 کروڑ خوراکیں بناسکتے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG