یورپ کی سرحدیں کھل گئیں لیکن امریکیوں پر پابندی
یورپ میں وبا کا زور کم ہونے کے بعد یورپی یونین نے اپنی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ 14 ملکوں کو محفوظ قرار دیتے ہوئے ان کے شہریوں کو یورپ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے لیکن امریکہ کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔
گھانا: قریبی ساتھی کا ٹیسٹ مثبت آنے پر صدر قرنطینہ میں چلے گئے
افریقہ کے ملک گھانا کے صدر نانا اکوفو اڈو اپنے ایک قریبی ساتھی کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے پر 14 دن کے لیے قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ہفتے کو رات ایک بیان میں کہا گیا کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ اگرچہ منفی آیا ہے لیکن وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر قرنطینہ ہوگئے ہیں۔
بیان کے مطابق صدر نانا اکوفو اڈو تنہائی میں رہنے کے باوجود کووڈ 19 کے حفاظتی پروٹوکول کے ساتھ صدارتی امور انجام دیتے رہیں گے۔
بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ان کے جس قریبی ساتھی کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ ان کے عملے کا رکن ہے یا وہ ان کے اہل خانہ میں سے کوئی ہے۔
گھانا میں کرونا وائرس کے اب تک 19 ہزار 388 کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ حکام نے 117 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
وبا کے بحران میں کام کرنے والے تھیٹرز
امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا قابو میں نہیں آ رہی۔ ان حالات میں تھیٹر کے پروڈیوسرز اداکاروں کو کام فراہم کرنے اور قدر دانوں سے رابطے میں رہنے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ان تھیٹرز نے کیسے کرونا وائرس کا سامنا کر کے اپنے کام کو جاری رکھا؟ دیکھیے اس رپورٹ میں
بھارتی تاجر نے کرونا سے بچنے کے لیے سونے کا ماسک پہن لیا
بھارت کے شہر پونے کے ایک تاجر شنکر کراڈے نے کرونا وائرس سے بچنے کے لیے چار ہزار امریکی ڈالر کی مالیت کا سونے کا فیس ماسک پہن لیا ہے۔
بھارتی کرنسی میں اس کی قیمت تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔
سونے سے بنے اس ماسک میں سانس لینے کے لیے باریک سوراخ بنائے گئے ہیں۔
شنکر کراڈے کا کہنا ہے کہ ماسک کا وزن 60 گرام ہے جب کہ اسے تیار کرنے میں 8 دن لگے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق شنکر عام ماسک کی طرح ہی اسے دن بھر استعمال کرتے ہیں اور جہاں بھی جاتے ہیں یہ ماسک لگائے رہتے ہیں۔
شنکر کا کہنا ہے کہ یہ ماسک انہیں وائرس سے کس حد تک محفوظ رکھے گا اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔