کرونا وائرس ہوا سے پھیلتا ہے، بارہ ملکوں کے سائنس دانوں کا نیا نظریہ
دنیا کے 12 ملکوں کے تقریباً ڈھائی سو سائنس دانوں نے کہا ہے کہ کوویڈ 19 ہوا کےذریعے پھیلنے والا وائرس ہے۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کو ایک خط میں کہا ہے کہ وائرس سے نمٹنے کے لیے وہی تدابیر اختیار کی جائیں، جو ہوا سے پھیلنے والی وبا کی صورت حال میں اپنائی جاتی ہیں۔
بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد روس سے بڑھ گئی ہے جس کے بعد عالمی فہرست میں اس کا نمبر تیسرا ہو گیا ہے۔ پہلے درجے پر بدستور امریکہ اور دوسرے پر برازیل ہیں۔ بھارت میں 24 ہزار نئے کیسز کے ساتھ مجموعی تعداد 7 لاکھ کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔
امریکہ اور بھارت کے بعد آج سب سے زیادہ نئے کیسز جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 8800 ہے۔
دنیا بھر میں کرونا کے سب سے زیادہ ٹیسٹ امریکہ میں ہوئے ہیں جن کی تعداد 3 کروڑ 75 لاکھ ہے۔اس کے بعد دو کروڑ 10 لاکھ کے ساتھ روس دوسرے اور ایک کروڑ ٹیسٹوں کے ساتھ برطانیہ تیسرے درجے پر ہے۔ پاکستان میں اب تک 14لاکھ کے قریب ٹیسٹ ہوئے ہیں، جب کہ ملک میں پازیٹو کیسز کی تعداد 2 لاکھ 31 ہزار اور اموات 4700 سے زیادہ ہیں۔
ایران میں ایک روز کے دوران ریکارڈ اموات
ایران میں کرونا وائرس سے ایک روز کے دوران ریکارڈ 163 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 11 ہزار 571 ہو گئی ہے۔
ایران کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ رواں برس فروری میں وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک ایک روز کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں دو ہزار 560 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس طرح ایران میں وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ 40 ہزار 438 تک پہنچ گئی ہے۔
تاج محل نہ کھولنے کا فیصلہ
بھارت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر سیاحتی مقام تاج محل کو کھولنے کے فیصلے پر نظرثانی کر لی ہے۔
حکام نے اتوار کی شب ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق تاج محل اور اس کے اطراف لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی گئی ہے۔ تاہم حکام نے حکم نامے میں لاک ڈاؤن کی مدت کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شمالی شہر آگرہ میں موجود تاج محل کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ محبت کی یہ یادگار کرونا وائرس کی وجہ سے مارچ میں عوام کے لیے بند کر دی گئی تھی۔
ڈسٹرکٹ حکام نے اپنے ایک حکم نامے میں مزید کہا ہے کہ مفادِ عامہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا گیا ہے کہ تاج محل کو بدستور بند رکھا جائے۔
آسٹریلیا کی دو ریاستوں کے درمیان 100 سال بعد سرحد کی بندش کا فیصلہ
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر گنجان آباد دو ریاستوں کے درمیان سرحد کو 100 سال بعد بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ریاست وکٹوریا اور نیو ساوتھ ویلز کے درمیان منگل سے سرحد کو بند کر دیا جائے گا تا کہ وبا کی روک تھام کے لیے شہرویوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔
آسٹریلیا میں 1919 میں اسپینش فلو کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان سرحد کو بند کیا گیا تھا اور اب ایک مرتبہ پھر ایسا کیا جا رہا ہے۔
حالیہ چند روز کے دوران ریاست وکٹوریا کے دارالحکومت میلبورن میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد شہر کے 30 مقامات اور نو رہائشی عمارتیں میں لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔
میلبورن میں اتوار کی شب مزید 127 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو ایک روز کے دوران کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
میلبورن میں ایک مریض بھی ہلاک ہوا ہے۔ دو ہفتوں سے زائد عرصے میں آسٹریلیا میں کرونا وائرس سے یہ پہلی ہلاکت ہے جب کہ اس وبا سے آسٹریلیا میں اموات کی کل تعداد 105 ہو چکی ہے۔