پاکستان میں مزید 83 اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 83 مریض دم توڑ گئے ہیں اور ملک بھر میں 2980 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 4922 ہے اور اب تک دو لاکھ 37 ہزار 485 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 40 ہزار 965 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان میں 2236 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
سمندر پر لاک ڈاؤن، لاکھوں افراد بہتی ہوئی جیلوں میں قید
کرونا وائرس کی وجہ سے مختلف ملکوں میں لاک ڈاؤن سے سب واقف ہیں لیکن ان لاکھوں افراد کے بارے میں بہت سے لوگ نہیں جانتے جو کئی مہینوں سے سمندر پر لاک ڈاؤن میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں بہتی ہوئی ان جیلوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اشیا کی نقل و حمل کرنے والے بحری جہازوں پر موجود ہیں۔ یہ جہاز ایک سے دوسری جگہ سامان پہنچارہے ہیں، لیکن عملے کو بندرگاہ پر اترنے اور گھر جانے کی اجازت نہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ خوراک، تیل اور دواؤں سمیت دنیا بھر میں اشیا کی 80 فیصد تجارت بحری جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے۔
کرونا ویکسین بنانے والے اداروں میں امریکہ کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری
امریکہ کی حکومت نے دوا ساز ادارے 'نوواویکس' کو کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کی آزمائش اور پیداوار کے لیے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر دیے ہیں جس کا مقصد جنوری تک 10 کروڑ خوراکیں فراہم کرنا ہے۔
امریکی محکمۂ صحت کے اعلان کے مطابق، یہ وائٹ ہاؤس کے آپریشن وارپ اسپیڈ کے تحت دی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ آپریشن وارپ اسپیڈ کے تحت دواساز اداروں کو رقوم دی جارہی ہیں تاکہ ویکسین کی آزمائش، تیاری اور پیداوار کا کام تیز کیا جاسکے۔
اس اعلان کے بعد میری لینڈ میں قائم نوواویکس کے حصص کی مالیت 29 فیصد بڑھ کر 102 ڈالر تک پہنچ گئی۔
نوواویکس کے چیف ایگزیکٹو اسٹینلے اورک نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رقم ویکسین کی 10 کروڑ خوراکوں کا معاوضہ ہے جن کی فراہمی اس سال کی چوتھائی سہ ماہی میں شروع کی جائے گی اور آئندہ سال جنوری یا فروری تک مکمل ہوجائے گی۔
کرونا کی وبا میں عارضۂ قلب کے مریضوں کی اموات
کرونا وائرس کی وبا کے دوران دل کے امراض سے موت کا شکار ہونے والوں کی تعداد طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر رہی ہے۔
کرونا وائرس سے دنیا میں لاکھوں افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک کروڑ سولہ لاکھ سے زیادہ کرونا کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ صرف امریکہ میں یہ تعداد ساڑھے انتیس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اگرچہ طبی ماہرین اب بھی اسے کرونا وائرس کی پہلی ہی لہر قرار دے رہے ہیں جس میں امریکہ میں متعدی امراض کے چوٹی کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے بقول امریکی گھٹنوں تک دھنس چکے ہیں۔
ماہرین کے بقول جہاں ایک طرف کرونا وائرس موجود ہے وہیں دیگر امراض کی شدت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں دل کے امراض بھی ہیں جن کے بارے میں کرونا کی وبا سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ دنیا میں لوگوں کی موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔