کرونا کی وبا میں عارضۂ قلب کے مریضوں کی اموات
کرونا وائرس کی وبا کے دوران دل کے امراض سے موت کا شکار ہونے والوں کی تعداد طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر رہی ہے۔
کرونا وائرس سے دنیا میں لاکھوں افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک کروڑ سولہ لاکھ سے زیادہ کرونا کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ صرف امریکہ میں یہ تعداد ساڑھے انتیس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اگرچہ طبی ماہرین اب بھی اسے کرونا وائرس کی پہلی ہی لہر قرار دے رہے ہیں جس میں امریکہ میں متعدی امراض کے چوٹی کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے بقول امریکی گھٹنوں تک دھنس چکے ہیں۔
ماہرین کے بقول جہاں ایک طرف کرونا وائرس موجود ہے وہیں دیگر امراض کی شدت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں دل کے امراض بھی ہیں جن کے بارے میں کرونا کی وبا سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ دنیا میں لوگوں کی موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔
بھارتی کشمیر میں پارکس کھولنے کا اعلان
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے پارکس کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی کشمیر میں اب تک کرونا وبا کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 145 اور وادی میں 8931 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
انتظامیہ نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ سری نگر کے مشہور مغل پارک سمیت وادی کے تمام پارکس کو عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے۔
امریکہ میں کیسز کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی
امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جب کہ بعض ریاستوں میں ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو درجن سے زائد ریاستوں میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ریاست کیلی فورنیا، ہوائی، میسوری، ٹیکساس، اوکلاہوما، مونٹانا اور اڈاہو میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھںٹوں کے دوران صرف کیلی فورنیا اور ٹیکساس میں دس دس ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ورلڈو میٹر کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس سے اب تک ایک لاکھ 33 ہزار 972 افراد ہلاک اور 30 لاکھ 97 ہزار 84 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 13 لاکھ 54 ہزار 863 ہے۔
برازیل کے صدر جائر بولسونارو بھی کرونا وائرس میں مبتلا
برازیل کے صدر جائر بولسونارو کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔ انہوں نے کرونا کی علامات ظاہر ہونے پر پیر کو اپنا ٹیسٹ کرایا تھا۔
برازیلین صدر کرونا وائرس سے متعلق اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ وہ متعدد مرتبہ کرونا وائرس کو معمولی زکام قرار دے چکے ہیں اور لاک ڈاؤن کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
برازیل امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔