ارجنٹائن میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز
ارجنٹائن میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ملک میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن کے باوجود نئے کیسز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار کو وزارتِ صحت نے مزید دو ہزار 657 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔
ارجنٹائن میں کرونا سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 166 ہو گئی ہے جہاں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک ہزار 845 ہو چکی ہے۔
متاثرہ افراد کی تعداد جون میں چار ہندسوں کو عبور کر گئی تھی جب کہ پچھلے چار دنوں کے دوران سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کیسز کی تعداد یومیہ تین ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ہانگ کانگ کا کتب میلہ ملتوی
ہانگ کانگ میں کرونا وائرس کے مقامی سطح پر منتقلی کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر بڑا کتب میلہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ہانگ کانگ میں سالانہ منعقد ہونے والے کتب میلے میں ہر سال دس لاکھ سے زائد افراد شرکت کرتے ہیں لیکن اس بار کرونا وبا کے پھیلاؤ کے باعث کتب میلے کے انعقاد سے دو روز قبل منتظمین نے اسے ملتوی کر دیا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ کتب میلے کا انعقاد بعد میں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔
کتب میلے کے علاوہ ہانگ کانگ میں رواں ماہ شیڈول تین نمائشوں کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی تیسری لہر آنے کا خدشہ ہے جس کے پیشِ نظر تمام اسکول بند کیے جا چکے ہیں اور شہریوں کو سماجی دوری کی احتیاط پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں کیسز کی تعداد 1470 ہو گئی ہے جہاں اتوار کو مزید 38 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 30 کیسز مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔
بھارت میں ایک روز کے دوران 500 اموات
بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 500 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد بھارت میں اس مہلک وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 23 ہزار 194 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 28 ہزار 701 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد آٹھ لاکھ 79 ہزار 487 تک پہنچ گئی ہے۔
بھارت دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔
پرائیوٹ اسکول مشکل میں: 'ڈر ہے اساتذہ خودکشیاں نہ کرنے لگیں'
کرونا وائرس نے پاکستان میں درس و تدریس کے شعبے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ سرکاری کے ساتھ ساتھ نجی اسکولز بھی گزشتہ کئی ماہ سے بند ہیں اور وہاں پڑھانے والے لاکھوں اساتذہ میں سے بہت سے بے روزگار ہو گئے ہیں۔
اسکول مالکان کہتے ہیں کہ طلبہ کے والدین فیسیں ادا نہیں کر رہے تو اساتذہ کو تنخواہ کہاں سے دیں۔ کئی مالکان نے مالی مسائل کے باعث اسکول بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اسکول مالکان اور اساتذہ کن مشکلات سے گزر رہے ہیں؟ دیکھیے اس رپورٹ میں