بھارت میں کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی
بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بڑے شہروں سے لاک ڈاؤن ختم کیے جانے کے بعد چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں کرونا وائرس کے متاثرین میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
بھارت امریکہ اور برازیل کے بعد کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا تیسرا ملک ہے۔ یہاں اب تک 25 ہزار 602 افراد کرونا کے سبب لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ریاستی حکومت نے وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دوبارہ پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں اور کئی علاقوں کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں 49 اموات، دو ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 49 مریض دم توڑ گئے ہیں اور دو ہزار 85 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی کل تعداد 5475 ہو گئی ہے اور کیسز کی تعداد ایک لاکھ 59 ہزار 995 تک پہنچ گئے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 83 ہزار 737 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر کی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج 1895 مریضوں کی حالت تشویش ناک بھی ہے۔
برازیل: کرونا کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے متجاوز
لاطینی امریکہ کے ملک برازیل میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس مہلک وبا سے 76 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
برازیل کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 45 ہزار سے زائد نئے کیسز اور 1300 ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں
کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں برازیل کا دوسرا نمبر ہے جہاں اموات اور کیسز کی تعداد امریکہ کے بعد کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔
برازیل کے شہر ساؤ پولو کے البرٹ آئن اسٹائن اسپتال میں بطور ماہر وبائی امراض خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر جین گورینچٹن کا کہنا ہے کہ برازیل کے پاس وسیع پیمانے پر کرونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ اس لیے کرونا وائرس سے متاثرہ 20 لاکھ افراد کی تعداد ایک علامتی نمبر ہے۔
آسٹریلیا: صرف 20 منٹ میں کرونا کا پتا لگانے والا ٹیسٹ دریافت کرنے کا دعویٰ
آسٹریلیا کے محقیقن نے صرف 20 منٹ میں کرونا وائرس کی موجودگی کا پتا لگانے والا ٹیسٹ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ ٹیسٹ خون کے نمونوں سے کیا جاتا ہے جس سے انفیکشن ہونے یا نہ ہونے کی موجودگی کا تعین ہوتا ہے۔
موناش یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ اس بات کا بھی تعین کرسکتا ہے کہ کرونا کے جراثیم جسم میں موجود ہیں یا نہیں اور کیا متاثرہ شخص کو ماضی میں بھی انفیکشن ہو چکا ہے۔
'اے سی ایس سنسرز' نامی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں کہا گیا ہے کہ اس نئے ٹیسٹ سے کرونا وائرس کے مریضوں کا پتا لگانے میں تیزی لائی جاسکے گی اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹس کیے جاسکیں گے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹ سے ہر گھنٹے سیکڑوں نمونوں کی جانچ کی جاسکتی ہے۔
آسٹریلیا میں اب تک کرونا کے 11 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ اس مرض سے 116 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔