ایک سو گھنٹوں میں کرونا وائرس کے دس لاکھ نئے مریضوں کا ریکارڈ
جمعے کے روز دنیا بھر میں کرونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ گئی اور اس کے ساتھ ہی اس مہلک مرض نے اپنے پھیلاؤ کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جس میں ایک سو گھنٹوں کے دوران دس لاکھ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔
کرونا وائرس کا پہلا مریض جنوری کے شروع میں چین میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد یہ تعداد ایک ملین یعنی دس لاکھ تک پہنچنے میں تین مہینے لگے۔ دوسری جانب 13 جولائی سے17 جولائی کے دوران محض ایک سو گھنٹوں میں دس لاکھ نئے افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔
امریکہ میں ہفتے کے روز کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 38 لاکھ کے قریب پہنچ گئی تھی اور عالمی وبا کی جاری پہلی لہر میں ہر روز بڑی تعداد میں پازیٹو کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ جمعرات کے روز امریکہ میں اس وقت وبا کے پھیلاؤ کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا جب 24 گھنٹوں میں 77 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ سویڈن میں وبا شروع ہونے سے اب تک کل 77281 افراد میں عالمی وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایک طرف امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب ماسک پہننے کے معاملے پر لوگوں میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ اور ان کے حامی ماسک پہننے سے احتراز کر رہے ہیں اور وہ لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ماضی کی اقتصادی سرگرمیاں شروع کر کے معمول کی زندگی میں لوٹ جائیں اور سکول دوبارہ کھول دیے جائیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وبائی مرض فلو کے شدید پھیلاؤ میں دنیا بھر میں مریضوں کی جتنی تعداد رپورٹ ہوتی رہی ہے، کرونا وائرس کے کیسز اس سے تین گنا بڑھ چکے ہیں۔
سات مہینوں کے عرصے میں یہ مہلک وبا دنیا بھر میں 6 لاکھ سے زیادہ انسانی جانیں نگل چکی ہے جو انفلونزا سے دنیا بھر میں ہونے والی زیادہ سے زیادہ سالانہ اموات کے قریب تر ہے۔ کرونا وائرس سے دنیا میں پہلی ہلاکت 10 جنوری کو چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ یہ وہ شہر ہے جہاں اس مرض کی پیدائش ہوئی۔
امریکہ کے بعد کرونا کے سب سے زیادہ مریض برازیل میں ہیں جن کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں ملک کے صدر اور کئی دوسرے عہدے دار بھی شامل ہیں۔ وہاں تقریباً 78 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
دنیا میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے جہاں حالیہ دنوں میں لگ بھگ 30 ہزار نئے کیسز کی روزانہ کی بنیاد پر تصدیق ہو رہی ہے اور کل تعداد 10 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔
صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ 17 جولائی ایک ایسا دن ہے جس میں ایک روز میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی اور یہ تعداد 2 لاکھ 37 ہزار 743 تھی۔
ایشوریہ رائے میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق، اسپتال داخل
بالی وڈ کی معروف فلم سٹار ایشوریہ رائے بچن کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئی ہیں اور ان کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایشوریہ رائے کی ایک اور وجہ شہرت یہ ہے کہ وہ حسینہ عالم بھی رہ چکی ہیں۔ ان کا شمار بالی وڈ کی سب سے معروف اداکاروں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی کئی فلمیں ریکارڈ بزنس کر چکی ہیں۔
ایشوریہ رائے سے قبل ان کے شوہر ابھیشک اور ان کے سسر امیتابھ بچن میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس پر ان دونوں کو ہفتے کے روز علاج کے لیے اسپتال داخل کرا دیا گیا تھا۔ ان دونوں کا شمار بالی وڈ کے چوٹی کے اداکاروں میں کیا جاتا ہے۔
ایشوریہ رائے کو علاج کے لیے ممبئی کے ناناوتی اسپتال لایا گیا ہے۔ ان کی بیٹی ارادھیا بھی اپنی ماں کے ساتھ اسپتال میں ہیں۔
امیتابھ بچن کی عمر 77 سال ہے۔ اداکاری میں ان کا طویل کیریئر ہے اور فن کی دنیا میں اپنی عالمی پہچان رکھتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ اتوار اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ کرونا وائرس کا پازیٹو رزلٹ آنے کے بعد اب اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔
امیتابھ کے بعد ان کے بیٹے ابھیشک نے ٹوئٹ کیا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آ گیا ہے۔ ابھیشک بھی ایک معروف اداکار ہیں۔ ان کی عمر 46 سال ہے۔ ان کی بیٹی ارادھیا کی عمر آٹھ سال ہے۔
بچن فیملی کی ایک اور مشہور شخصیت جیا بچن ہیں۔ وہ امیتابھ بچن کی شریک حیات اور اپنے دور کی معروف فلم سٹار ہیں۔ ان کا کرونا ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا۔
اسپتال میں داخل کیے جانے سے قبل اب تک ایشوریہ رائے اور ارادھیا گھر پر قرنطینہ میں تھیں۔
امیتابھ فیملی کو بھارت میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس خبر سے ان کے پرستاروں کو بڑا دھچکا لگا ہے اور وہ ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔
بھارت کرونا وائرس سے دنیا بھر میں تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ اس وقت وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے اور حالیہ دنوں میں وہاں ہرروز 30 ہزار کے لگ بھگ نئے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔ جمعے کے روز وہاں 24 گھنٹوں کے دوران 35 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز
بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ علاقے بھی لپیٹ میں آ گئے ہیں جو اب تک نسبتاً محفوظ خیال کیے جا رہے تھے۔ ماہرین نے انتباہ کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ دوبارہ لاک ڈاون کرنا پڑے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون سے وبا کا زور ٹوٹ سکتا ہے، مگر اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔
بھارت میں صحت کے ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ نئے متاثرہ علاقوں میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اس طرح بھارت کے بہت سے صوبوں میں یہ وبا مزید تیزی سے پھیلے گی۔
ماہرین کے اندازے کے مطابق، پچھلے پندرہ دنوں میں یہ تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کا خیال ہے تقریباً ایک ارب تیس کروڑ آبادی والے ملک میں ٹیسٹنگ بھی کم ہو رہی ہے اور اگر اس میں اضافہ ہوا تو کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
کیمونٹی میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر کپل یادو نے کہا کہ ہر صورت میں یہ طئے ہے کہ کیسز کی جو تعداد بتائی جا رہی ہے وہ اصل تعداد سے بہت کم ہے۔ یہ وائرس مغربی ملکوں کی طرح یہ اپنی انتہا کو پہنچے گا۔
بھارت ایک وسیع ملک ہے اور مختلف مقامات پر یہ مختلف اوقات میں زور پکڑتا ہے۔
پہلے نئی دہلی، صوبہ مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں زیادہ تعداد میں کیسز دیکھنے میں آئے اور اب بنگلور اور بہار کے صوبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بہار کی آبادی دس کروڑ سے زیادہ ہے اور اس کا شمار بھارت کے غریب ترین صوبوں میں ہوتا ہے جہاں طبی سہولتیں بھی ناکافی ہیں۔
متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس انتہائی چھوت دار ہے اور گنجان آباد غریب آبادیوں میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ان علاقوں میں اس سے بچنے کی بنیادی احتیاطوں پر عمل کرنا نا ممکن ہے۔ بھارت میں دس ہفتوں کے سخت لاک ڈاون سے اس کی رفتار سست پڑی، مگر یہ طوفان تھما نہیں۔ پھر جون سے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
حکومت نے کچھ علاقوں میں کاروبار کو کھولا ہے، مگر بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے لوگ بے یقینی کا شکار ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ دوکانیں دوبارہ نہ بند کرنا پڑیں۔ نئی دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں اب تک میٹرو اور ٹرین سروس بند ہے۔ سکول اور کالج بھی بند ہیں۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں۔ گوا جیسے سیاحتی مقام میں لاک ڈاون جاری ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔
کیمونٹی میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر کپل یادو کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کا مقصد صرف اتنا ہی رہا کہ پبلک ہیلتھ سسٹم کو تیاری کے لیے مہلت مل جائے۔ لیکن اگر ان پانچ مہینوں میں بھی تیاری نامکمل رہی تو اگلا ہفتہ بھی ایسا ہی گذرے گا جیسا کہ یہ ہفتہ۔
سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے اور اگر یہاں کرونا کی وبا کا حملہ ہوا تو پھر نہ صرف کیسز کی تعداد بڑھے گی، بلکہ اموات میں بھی اضافہ ہو گا۔
نئی دہلی میں پبلک ہیلتھ فاونڈیشن کے صدر کے سری ناتھ ریڈی کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں وائرس پھیلا تو چیلنجز بڑھ جائیں گے اور ایسے حالات میں صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہاں تک اس کے علاج کی سہولتیں بہم ہو جائیں۔ دوسری طرف بہار جیسے غریب صوبوں کی دیہی آبادی کے لیے سخت خطرہ ہے ۔ تاہم، ریڈی اس بارے میں پر امید ہیں کہ شہروں کے مقابلے میں دیہاتوں میں کرونا سست رفتاری سے پھیلے گا۔
اخبار ٹائیمز آف انڈیا نے انتباہ کیا ہے کہ وبا کے ساتھ معیشت کی تباہی بھی ملک کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہو گی۔ لاک ڈاون کرنے اور اٹھانے سے بھی لوگوں تک منفی پیغام پہنچ رہا ہے۔ صحت عامہ کے ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ لاک ڈاون کی ضرورت اور اہمیت سے عوام کو بہتر طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
متعدی امراض کے ماہر جیکب جان کہتے ہیں کہ عوام کا خیال ہے کہ لاک ڈاون سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ لاک ڈاون اور دوسری احتیاطوں کے باوجود یہ دشمن زندہ اور طاقت ور ہے۔
کرونا وائرس کی اس جنگ میں بھارت کے لیے صرف یہ بات تسلی کا باعث ہے کہ مغربی ملکوں کی نسبت یہاں اموات کی شرح کم ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل اس وائرس کا مقابلہ کر کے صحت یاب ہو جاتی ہے اور اسی لیے ملک کی مجموعی شرح اموات نسبتاً کم رہی ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 46 ہلاکتیں، 1579 کیسز کا اضافہ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 1579 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 496 ہوگئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 24 گھنٹوں میں مزید 46 افراد وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔
ملک بھر میں اب تک مجموعی طور پر 5568 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 17 لاکھ 21 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ گزشتہ روز سے اب تک 23ہزار کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں حکومتی شخصیات مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ ملک بھر میں لیبارٹریز کی ہومیہ ٹیسٹ کرنے کی مجموعی استعداد 50 ہزار کے قریب ہے لیکن اب تک ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ 24 گھنٹوں میں 50 ہزار یا اس کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہوں۔