شدید گرمی میں حفاظتی لباس پہن کر ڈاکٹر سارا دن کیسےکام کرتے ہیں؟
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے شدید گرم موسم میں کرونا وائرس سے بچاو کا حفاظتی لباس پہن کر ڈاکٹر اور طبی عملہ کیسے مریضوں کا علاج کرتا ہے؟ ہماری نمائندہ رتول جوشی نے یہ جاننے کے لئے دہلی کے ایک ہسپتال کا رخ کیا اور کہانیاں سنیں دلی کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور سٹاف کی۔ آپ بھی سنئے اس ویڈیو رپورٹ میں
فرانس میں کیسز میں پھر اضافہ، بلا معاوضہ ٹیسٹ جاری رکھنے کا اعلان
فرانس میں لاک ڈاؤن ہٹائے جانے کے دو ماہ بعد کرونا وائرس کے کیسز میں ایک پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔
اس اضافے کو روکنے کے لیے شعبہ طب کے حکام نے بلا معاوضہ اور بغیر کسی طبی نسخے کے کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے سے متعلق منصوبے میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کے جاری احکامات کے مطابق پی سی آر نسل سوئب ٹیسٹس جن سے کرونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے، بلا معاوضہ ہوں گے جب کہ ٹیسٹ کے لیے طبی عملے کو کہیں بھی طلب کیا جاسکے گا۔
فرانس کے وزیر صحت اولیویر ویرن نے اتوار کو ایک مقامی روزنامے کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ کرونا وائرس میں اضافے کو ہرگز وبا کی دوسری لہر قرار نہیں دیں گے لیکن یہ واضح ہے کہ حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے حالاں کہ اس سے قبل گزشتہ 13 ہفتوں کے دوران ہم کیسز کم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
مئی میں دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے اب تک ملک بھرمیں یومیہ ایک ہزار نئے کیسز کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سخت احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پنجاب میں کیسز کی تعداد 91 ہزار سے متجاوز
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید 210 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 91901 ہو گئی ہے۔
پنجاب کے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان کے مطابق کرونا وائرس سے مزید تین افراد کی موت ہوئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 2116 ہو گئی ہے۔
صوبے بھر میں اب تک 692613 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق کرونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 81253 ہے۔
حکام نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔
بھارت: کچرا چننے والے کرونا وائرس سے کیوں نہیں ڈرتے؟
منصور خان اور ان کی اہلیہ لطیفہ بی بی تقریباً 20 برس سے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں ایک بہت بڑی کچرا پٹی سے پلاسٹک اور دیگر اشیا چننے کا کام کرتے آ رہے ہیں۔
وہ دونوں اس کام سے ہونے والی پانچ ڈالر (375 بھارتی روپے) یومیہ کی آمدن سے گھر کے اخراجات کے علاوہ تین بچوں کے اسکول فیس ادا کرتے ہیں۔ منصور اور ان کی اہلیہ بچوں کو کچرا پٹی کے تعفن سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔
پچھلے کچھ ماہ سے کچرا پٹی پر بائیو میڈیکل فضلے کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے سبب ماہرین کا کہنا ہے کہ کچرا چننے والوں کی صحت کو وبائی مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔