امریکہ میں باسکٹ بال ٹیم کے 14 ارکان کرونا وائرس کا شکار
کہتے ہیں کہ کھیل کے میدان آباد ہوں تو اسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔ عام حالات میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن عالمگیر وبا کے زمانے میں اسپتال بھرے ہوئے ہیں اور کھیلوں کے میدان آباد ہونے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہیں۔
امریکہ میں کھیلوں کی صنعت اربوں ڈالر مالیت کی ہے اس لیے عام کاروبار کھولنے سے زیادہ اسے بحال کرنے کی فکر زیادہ لوگوں کو ہے۔ بیس بال، باسکٹ بال، امریکن فٹبال اور آئس ہاکی یہاں مقبول کھیل ہیں۔ امریکن فٹبال رگبی جیسے کھیل کو کہتے ہیں۔
امریکہ میں وبا کے ابتدائی زور کے بعد کیسز میں کمی ہوئی تو کاروبار کے ساتھ کھیلوں کی رونقیں بحال کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ کیسز اب دوبارہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن، اس امید پر چند کھیلوں کا آغاز کر دیا گیا کہ کنٹرولڈ ماحول میں سب اچھا رہے گا۔
پاکستان میں 23 اموات، 936 کیسز رپورٹ
سندھ میں مویشی منڈیاں رات 11 بجے تک کھلی رہیں گی
سندھ حکومت نے کرونا وائرس کی عالمی وبا پر نظر رکھنے کے لیے وفاقی سطح پر قائم 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' (این سی او سی) کے فیصلے کے تحت صوبے میں مویشی منڈیوں کے لیے اوقاتِ کار میں چار گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ عید الاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کی جانب سے خریداری کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ اب صوبے میں قائم مویشی منڈیاں صبح سات بجے سے رات 11 بجے تک خریداری کے لیے کھلی رہیں گی۔
محکمۂ داخلہ سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں دیگر تمام مارکیٹیں اور کاروباری مراکز جنہیں کرونا وائرس کے باعث صبح نو بجے سے شام سات بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہے وہ فی الحال ا ہی اوقات میں کاروبار جاری رکھ سکیں گے۔
خیال رہے کہ حکومت سندھ نے کرونا سے بچاؤ کے ایس او پیز کے تحت صوبے میں قائم مویشی منڈیوں میں ماسک پہن کر آنے کو لازمی قرار دیا تھا۔ مویشی منڈیوں میں 15 سال سے کم عمر اور 55 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے آنے پر بھی پابندی عائد ہے۔
منڈی انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مقام پر لوگوں کو بڑی تعداد میں جمع ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔
کراچی میں انتظامیہ نے چار مختلف مقامات پر مویشی منڈیاں قائم کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ دیگر تمام عارضی مویشی منڈیوں کے قیام پر پابندی عائد ہے۔
اسی طرح نیکٹا کے فیصلے کی روشنی میں عید الاضحیٰ کے موقع پر انتظامی اجازت کے بغیر قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ صرف رجسٹرڈ تنظیمیں، مدارس اور دیگر فلاحی ادارے ہی قربانی کی کھالیں اجازت ناموں کے بعد جمع کر سکیں گے۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت کراچی میں عید کے پیشِ نظر تمام تفریحی مقامات اور پارکس چار اگست تک مکمل بند رکھنے کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
پابندی کا اطلاق پبلک پارکس، ساحلِ سمندر، دیگر تفریحی مقامات، سوئمنگ پولز، پلے گراﺅنڈز، جمنازیم، جاگنگ ٹریکس اور کھیل کے میدانوں پر بھی ہو گا۔
پنجاب میں عید الاضحٰی پر کون سے کاروبار کھلے رہیں گے؟
حکومتِ پنجاب نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبہ بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر تاجروں میں ابہام پایا جاتا ہے کہ کون کون سے کاروبار کھلے رہیں گے اور کون سے بازار بند ہوں گے۔
اِس حوالے سے محکمۂ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نے ان کاروباروں کی فہرست جاری کر دی ہے جنہیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔
محکمۂ ہیلتھ کیئر پنجاب کے مراسلے کے مطابق صوبے میں تمام طبّی مراکز، فارمیسیز، میڈیکل اسٹور، ٹائرپنکچر کی دکانیں، آٹا چکیاں، پوسٹل/ کوریئر سروسز کے دفاتر کھلے رہیں گے۔
اِس کے علاوہ اشیائے خور و نوش کی دکانیں، بیکریاں اور کریانہ اسٹور، پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں، گوشت اور دودھ کی دکانیں اور تندور بھی کھلے رہیں گے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بینک، کرنسی ایکسچینج، ٹیلی کام فرنچائزز، ڈرائی کلینر، درزی وغیرہ کی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت ہو گی جب کہ آٹو ورک شاپس، تعمیراتی کام سے منسلک بلڈنگ مٹیریل، شیشہ، ایلومینیم وغیرہ کی دکانیں بھی کھلی رہ سکیں گی۔
ہوٹلوں اور ریستورانوں پر صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی اجازت ہو گی جب کہ ایل پی جی گیس ک دکانیں، فلنگ پلانٹس، زراعت مشینری، پرنٹنگ پریس، کال سینٹرز (50 فیصد عملے کے ساتھ)، ورک شاپس اور اسپیئر پارٹس کی دکانیں بھی کھلی رہیں گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور ہاسٹلز، پیٹرول پمپ اور آئل ڈپو 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔ بین الاضلاع اور شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ 24 گھنٹے چلتی رہے گی اور تمام کاروبار مقرر کیے گئے اوقات کار کے دوران ہی کام کرسکیں گے۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نوٹی فکیشن کا اطلاق عیدالاضحٰی کے بعد پانچ اگست تک ہو گا۔
حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر تاجر تنظیموں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے کاروبار کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔
تاجر تنظیموں کے مطابق عید کے موقع پر بازاروں کو بند کرنے سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے اور چھوٹے دکان دار زیادہ متاثر ہوں گے۔ صدر ایوان صنعت وتجارت عرفان اقبال شیخ کہتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر کاروبار بند کرنے سے تاجر برادری کو مالی نقصان ہوگا۔ لہٰذا حکومت قواعد و ضوابط کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دے۔