پاکستان سمیت دُنیا بھر میں سونا مہنگا کیوں ہو رہا ہے؟
پاکستان سمیت دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ عالمی وبا کی وجہ سے امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور بڑے ملکوں کے مابین تجارت اور دیگر معاملات پر محاذ آرائی بھی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت صرف ایک ہفتے میں 1865 ڈالرز فی اونس سے بڑھ کر 1930 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچی ہے جب کہ گزشتہ سال جولائی میں یہ قیمت 1400 ڈالرز فی اونس کے لگ بھگ تھی۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان برقرار ہے اور 24 قیراط سونا فی تولہ ایک لاکھ 22 ہزار 500 روپے تک جا پہنچا ہے۔
ماہرین اور مالیاتی ادارے امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قیمتیں عالمی مارکیٹ میں آئندہ چند ماہ میں 2500 ڈالرز فی اونس تک بھی پہنچ سکتی ہیں جس کا اثر دنیا کی تمام مارکیٹس پر بھی پڑے گا۔
ماہرین کی نظر میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ کرونا وائرس سے پیدا معاشی صورتِ حال، بڑے ملکوں کے مابین جاری سرد جنگ اور معاشی سست روی بھی ہے۔
صحت یاب ہونے والوں کے پلازمہ میں موجود اینٹی باڈیز سے ویکسین کی تیاری
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بدھ کو اعلان کیا کہ کرونا وائرس کی ویکسین کے مؤثر ہونے کی تصدیق کے بعد آئندہ چند ہفتوں کے اندر اس کے وسیع پیمانے پر تجرباتی استعمال کی اجازت دے دی جائے گی۔
امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹ کے مطابق یہ ویکسین کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے پلازمہ میں موجود اینٹی باڈیز سے تیار کی گئی ہے۔
افغانستان میں 53 ہیلتھ ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ
افغانستان کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 65 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔
ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 36538 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت نے وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 1281 بتائی ہے جب کہ 25544 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے فلاحی امور کے رابطہ کار دفتر نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے 53 ہیلتھ ورکرز بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس بند مقام پر 14 منٹ تک ہوا میں رہ سکتا ہے
کیا کرونا وائرس ہوا کے ذریعے پھیل سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہے، ''جی ہاں، یہ ممکن ہے''۔
عالمی ادارہ صحت نے حال میں اس امکان کو تسلیم کیا ہے کہ کرونا وائرس بعض مخصوص حالات میں ہوا کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
حال میں پرہجوم بند مقامات پر، جن میں ریسٹورنٹس، کلب اور گرجاگھر شامل تھے، بیماری پھیلنے سے اندازہ ہوا کہ اگر سماجی فاصلے کے اقدامات پر سختی سے عمل نہ کیا جائے تو وائرس ہوا میں اتنی دیر رہ سکتا ہے کہ ممکنہ طور پر دوسروں کو متاثر کرسکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بند مقامات پر ہوا کی گزرگاہ بہتر نہ ہونے کی وجہ سے وائرس پھیلا اور اسے معمول سے زیادہ وقت ہوا میں رہنے کا موقع ملا۔