انڈونیشیا میں مزید 1500 سے زائد افراد میں کرونا کی تصدیق
انڈونیشیا میں ہفتے کو مزید 1500 سے زائد کرونا کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
انڈونیشیا میں وائرس سے اب تک 67 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سبب 62 افراد ہلاک ہوئے جب کہ اس مہلک وبا سے انڈونیشیا میں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
'آئی پی ایل میچز کے دوران شائقین گراؤنڈ میں آ سکیں گے'
متحدہ عرب امارات کے کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ شروع ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں محدود تعداد میں شائقین کو آنے کی اجازت ہو گی۔
اماراتی بورڈ کے سیکریٹری مبشر عثمانی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مقامی شائقین اس بڑے ایونٹ سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اُن کے بقول اسٹیڈیم میں مناسب فاصلے کے ساتھ شائقین کو بیٹھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
البتہ مبشر عثمانی کا کہنا تھا کہ وہ پراُمید ہیں کہ حکومت سے اس کی اجازت مل جائے گی۔
خیال رہے کہ کرونا وبا کے باعث دُنیا بھر میں کھیلوں کے مقابلوں کے دوران اسٹیڈیمز میں شائقین کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔
دنیائے کرکٹ میں لیگز کا سب سے بڑا ایونٹ سمجھے جانے والا آئی پی ایل 19 ستمبر سے 10 نومبر تک متحدہ عرب امارات کے مختلف مقامات پر منعقد ہو گا۔
مبشر عثمانی کے بقول متحدہ عرب امارات میں وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 6200 ہے اور اُمید ہے کہ آئی پی ایل کے آغاز سے قبل کیسز مزید کم ہو جائیں گے۔
برلن میں کرونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ
برلن میں ہفتے کے روز میں ہزاروں افراد نے عالمی وبا کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے لوگوں کے حقوق اور آزادیاں سلب ہوئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد 17 ہزار کے لگ بھگ تھی اور ان میں لبرل، آئین سے وفاداری رکھنے والے اور ویکسین کے مخالف سرگرم کارکن شامل تھے۔ مظاہرین میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد بھی محدود تعداد میں شامل تھے، جنہوں نے قدیم امپیرئل سیاہ، سفید اور سرخ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
مظاہرین رقص کرتے ہوئے یہ گا رہے تھے کہ ہم آزاد منش لوگ ہیں۔ جب کہ مظاہرے میں شامل کئی افراد کے پاس پلے کارڈ تھے جن پر لکھا تھا کہ ماسک پہنیں نہیں، لیکن اس کے متعلق سوچیں ضرور۔
مظاہرے میں شامل ایک شخص کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہمیں جمہوریت لوٹا دو۔
یہ مظاہرہ مائیکل بالوگ کی اپیل پر ہوا جو ایک کاروباری شخصیت ہیں اور ریلیاں منظم کرتے ہیں۔ وہ جرمنی کے ایک جنوب مشرقی شہر کے میئر کا انتخاب لڑنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
پولیس نے مظاہرے کے منتظمین کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں سے ماسک پہننے اور سماجی فاصلے قائم رکھنے کی پابندی کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ مرکزی دھارے کی سیاست دانوں نے اس مظاہرے کے انعقاد پر نکتہ چینی کی ہے۔
جرمنی نے آغاز میں کرونا وائرس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، لیکن اب کچھ عرصے سے یہ مہلک وبا وہاں دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ جسے روکنے کے لیے حکومت پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جرمنی میں اب تک 2 لاکھ افراد وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں جب کہ اموات کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔
جرمنی کے زیادہ تر باشندے حفاظتی اقدامات کی پابندی کر رہے ہیں اور گھر سے باہر ماسک پہنتے ہیں۔ جب کہ حکومت نے حال ہی میں تفریحی اور وائرس کے پھیلاؤ کے مقامات سے لوٹنے والوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی کر دیے ہیں۔جس کے خلاف کئی لوگ آواز اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان میں عید پر سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے
پاکستان میں عید الاضحیٰ پر کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
سرکاری ویب سائٹ 'covid.gov.pk' کو 31 اگست کی صبح کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ گزشتہ دو روز میں کتنے افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری طور پر اعداد و شمار سامنے نہ آنے کی وجہ سے یہ بھی واضح نہیں ہے کہ گزشتہ دو روز میں کتنی اموات ہوئی ہیں جب کہ کتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔