کرونا وائرس کیسے پھیلا؟ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو
چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹریو کیے ہیں۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔
عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان نے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او میں ہنگامی حالات کے سربراہ مائیک ریان نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حیرت انگیز انکشافات کا امکان ہے۔
اُنہوں نے کہا تھا کہ جب ووہان میں صورتِ حال کی سنگینی کا ادارک ہوا تو ضروری نہیں کہ اسی وقت وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔
عالمی ادارۂ صحت کے مشن میں جانوروں کی صحت اور وبائی امراض کے ماہرین شامل ہیں، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ آخر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس وائرس کا ماخذ کیا تھا اور یہ کیسے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔
کرونا وائرس کی ابتدا اور انسانوں میں منتقلی سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے دنیا بھر کے سائنس دان اور حکومتیں منتظر ہیں۔
دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں بھی ماسک پہنیں
ٹاسک فورس کی کو آرڈی نیٹر ڈیبرا برکس نے اتوار کے روز سی این این کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ اگر آپ کے گھر میں مختلف عمروں کے افراد رہتے ہیں۔ اور آپ کے شہر یا گاؤں میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے تو آپ کو اپنے گھر کے اندر بھی ماسک پہننے چاہیئں۔
کرونا وائرس اپنے ابتدائی مہینوں میں بڑے شہروں تک ہی محدود رہا لیکن اب وہ دیہی اور شہری آبادیوں، دونوں جگہ یکساں طور پر پھیل رہا ہے۔
کرونا وائرس ان لوگوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے جن کے اندر وائرس تو موجود ہو مگر اس کی علاماتیں ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ ایک تازہ مطالعاتی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً نصف کے لگ بھگ نئے کیسز میں وائرس ایسے لوگوں کے ذریعے منتقل ہوا جن میں اس وقت تک علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں جب انہوں نے اسے آگے منتقل کیا۔
برکس نے کہا کہ اگر آپ کے گھر میں ایسے افراد موجود ہیں جو کرونا وائرس کا آسان ہدف بن سکتے ہیں، مثلاً انہیں شوگر یا دل کے امراض ہیں تو پھر آپ یہ تصور کرتے ہوئے کہ آپ کرونا پازیٹو ہیں، انہیں محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں ماسک پہنے رہیں۔
جانزہاپکننز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ایک سینئر سکالر امیش ادلجا کہتے ہیں کہ امریکہ کے بہت سے حصوں میں ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ انہیں کرونا لگ چکا ہے، اور وہ ٹیسٹنگ کے لیے بہت تاخیر سے اسپتال آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایمرجینسی ورکر ہے یا وہ کسی ایسی ملازمت پر ہے جس کے لیے اس کا باہر جانا ضروری ہے، تو یہ امکان موجود ہے کہ وہ ایسے افراد سے رابطے میں آ سکتا ہے جن میں وائرس موجود ہے۔ اور اگر وہ اپنے گھر میں کسی ناتواں شخص کے ساتھ رہ رہے ہیں تو اس صورت میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ زیادہ ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ہوا میں موجود آبی بخارات میں اس سے کہیں زیادہ وقت زندہ رہ سکتا ہے جتنا کہ اس سے پہلے خیال کیا گیا تھا، خاص طور پر بند جگہوں پر۔ اس صور ت میں اس سے بچنے کا موثر طریقہ ماسک کا استعمال ہے۔
کرونا سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ماں بھی اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔
جینوا سے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار لیزا شلائین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحت کے ماہرین کو اس بارے میں تشویش ہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے بہت سے بچے ماں کے دودھ سے محروم ہو گئے ہیں، جبکہ کرونا سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت میں خوراک اور غذائیت کے شعبے کے سربراہ لارنس گرومر سٹران کا کہنا ہے خواتین میں اس بارے میں آگہی پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ادارے کا تخمینہ ہے کہ ہر سال آٹھ لاکھ 20 ہزار بچے ماں کا دودھ نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے ماں کا دودھ بچوں کو اسہال، تنفس، لیکیومیا اور فربہی سے منسلک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ پلانے والی خواتین سرطان اور ذیابیطیس سے محفوظ رہتی ہیں۔
گرومر سٹران نے وی اے او سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس میں مبتلا خواتین کو اپنے نو مولود بچے کو اپنا دودھ دیتے ہوئے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دودھ کے ذریعے اس وائرس کے منتقل ہونے کا امکان شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ادارے کو دنیا بھر سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچہ کرونا وائرس کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے عام طور سے محفوظ رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ تک اگر بچوں کو ماؤں کا دودھ ملے تو اس بچے کی زندگی کا آغاز بے حد صحت مند ہوتا ہے۔
گرومر سٹران نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو اس سلسلے میں خاصی تشویش ہے۔ کیوں کہ فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیاں اپنا دودھ فروخت کرنے کی خاطر غلط انداز میں تشہیر کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہر طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے نام پر بہت سی کمپنیاں صحت کے ماہرین کے طور پر ماؤں کو مشورے دیتی ہیں۔ مختلف ویب سائٹس پر بھی ایسی گمراہ کن خبریں عام ہیں۔ ہمیں ان منفی مشوروں کو نظر انداز کرنا چاہیے۔
ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماں کے دودھ کا عالمی ہفتہ منایا جا رہا ہے۔ یکم اگست سے سات اگست تک منائے جانے والے اس ہفتے کے دوران صحت کے ادارے اس کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں مختلف تقاریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔
پاکستان میں 15 اموات، 675 نئے کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 675 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ اس وبا سے 15 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 11 ہزار 915 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے کرونا کے اجلاس میں شادی ہالز اور ریستوران کھولنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اجلاس میں بزنس سینٹرز، سیاحتی مقامات، سنیما اور تھیٹرز کھولنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔