پاکستان میں 300 افراد میں وائرس کی تشخیص
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے چار مریض ہلاک اور 300 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 6298 اموات ہو چکی ہیں اور دو لاکھ 96 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں 26 لاکھ سے زیادہ افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور متاثرہ مریضوں میں سے دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
بھارت: لگ بھگ 70 ہزار نئے کیسز، 819 مریض ہلاک
بھارت میں منگل کو کرونا وائرس کے مزید 69 ہزار 921 متاثرین سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 37 لاکھ ہو گئی ہے۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 819 مریض ہلاک ہو گئے۔ بھارت میں عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 65 ہزار 288 تک پہنچ گئی ہے۔
یورپی ملکوں میں چھ ماہ بعد اسکول دوبارہ کھل گئے
کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے تقریباً چھ ماہ بعد یورپی ملکوں کے اسکول منگل کو دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ ان ممالک میں فرانس، بلیجیم، یونان، جرمنی، انگلینڈ اور اسپین شامل ہیں۔
یورپی ملکوں میں اسکول کھلنے کے باوجود کرونا وائرس سے متعلق سخت ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد لازمی ہو گا۔
اسکولوں میں 11 سال سے 18 سال تک کی عمر کے تمام طالب علموں کو اسکول کے اندر اور باہر ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔
اساتذہ اور عملے کے لیے بھی ماسک پہننے کی شرط لازم ہے جب کہ ہر فرد کو ایک دوسرے سے تقریباً چھ فٹ کی دوری برقرار رکھنا لازمی ہو گی اور وقفے وقفے سے بار بار ہاتھوں کو دھونا یا سینیٹائز کرنا ہو گا۔
کوئی ملک یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کرونا وبا ختم ہو گئی: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ کروناوائرس کی عالمی وبا ختم ہو گئی ہے۔
پیر کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا کہ دنیا کے ممالک کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے عمل کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ممالک کو معیشت کھولنے یا معمول کی زندگی بحال کرتے وقت وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور مزید ہلاکتوں سے بچنے کی حکمتِ عملی بھی مرتب کرنی چاہیے۔
ٹیڈروس ایڈہینم کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے وائرس کو کنٹرول کر لیا ہے وہ اسی لحاظ سے اپنی روزمرہ کے معمولات بحال کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چار بنیادی نکات پر عمل درآمد پر زور دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ بڑے اجتماعات جیسے اسٹیڈیمز اور نائٹ کلبز پر پابندی اور ٹیسٹنگ کا بہترین نظام، ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلوں سے وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔