حمزہ شہباز بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں: مسلم لیگ (ن)
پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز بھی جیل میں کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو چند روز سے بخار تھا جس کے بعد اُن میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو فوری طبی امداد کے لیے کوٹ لکھپت جیل سے اسپتال منتقل کرنا ضروری ہے۔
پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے ادارے، قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ سال جون میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کو گرفتار کیا تھا۔
بھارت: چوبیس گھنٹوں میں 94 ہزار سے زائد کیس رپورٹ
امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 94 ہزار 372 مزید افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد بھارت میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 47 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو اس مہلک وبا سے مزید ایک ہزار 114 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
بھارت میں وبائی مرض سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 78 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح 77 فی صد سے زائد ہے جب کہ لگ بھگ 70 ہزار افراد روزانہ اس وبا سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں مزید 500 سے زیادہ کیسز رپورٹ
کرونا کیسز میں کمی، سعودی عرب کا فضائی آپریشن جزوی بحال کرنے کا فیصلہ
سعودی عرب نے 15 ستمبر سے فضائی آپریشن کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صرف سعودی شہری اور رہائشی بیرونِ ملک آ جا سکیں گے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اتوار کے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکام نے 15 ستمبر سے فضائی آپریشن کی جزوی بحالی کی اجازت دی ہے جب کہ آئندہ برس یکم جنوری کے بعد مملکت میں ہر قسم کی سفری پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
رواں برس مارچ میں سعودی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہوائی سفر پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سعودی حکام کی جانب سے 15 ستمبر کے بعد جن افراد کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت ہو گی ان میں سول اور ملٹری ملازمین، سفارت کار اور ان کے خاندان، سرکاری یا نجی ملازم، تاجر، بیرونِ ملک علاج کی غرض سے جانے والے مریض، بیرونِ ملک پڑھنے والے طلبہ، فلاحی کارکن اور کھیلوں کی ٹیمیں شامل ہیں۔