پاکستان میں 7070 افراد زیرِ علاج، 558 مریضوں کی حالت تشویشناک
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ 7070 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں جب کہ ان میں سے 558 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک کرونا وائرس سے 307418 افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے 6432 افراد کی موت ہو چکی ہے جب کہ 293916 متاثرہ افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 532 مزید افراد وائرس سے متاثر ہوئے۔ جب کہ 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 33ہزار 744 ٹیسٹ کیے گئے۔ مجموعی طور پر اب تک 32 لاکھ 64 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
ترک حکومت پر کرونا کیسز چھپانے کا الزام
ترکی میں ڈاکٹر اور سیاست دان اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت کرونا وائرس کی دوسری لہر کے اعداد و شمار کم بتا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 1700 نئے مریض سامنے آ رہے ہیں اور 60 کے قریب ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ تفصیلات دیکھیے اس رپورٹ میں۔
اقوامِ متحدہ وائرس پھیلانے پر چین کو انصاف کے کٹہرے میں لائے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ٖڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین نے کرونا وائرس کے متعلق دنیا کو گمراہ کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ چین کو اس مہلک وبا کے پھیلاؤ کے سلسلے میں انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے آن لائن خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین نے وبا کے پھوٹنے کے بعد اندرونِ ملک پروازیں روک دیں تھیں۔ لیکن بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ جاری رکھا تا کہ وائرس کو دنیا میں پھیلنے کا موقع مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور عالمی ادارۂ صحت نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے شروع میں کہا کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل نہیں ہوتا۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کے سب سے زیادہ مستند کیسز امریکہ میں ہیں جن کی تعداد 69 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جب کہ دنیا بھر میں وائرس سے سب سے زیادہ اموات بھی امریکہ میں ہوئی ہیں جو دو لاکھ کے قریب ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ویکسین تیار کر رہے ہیں۔ ہم ویکسین تقسیم کریں گے۔ وائرس کو شکست دیں گے اور ملک کو خوش حال بنائیں گے۔
پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم کو درپیش مشکلات
پاکستان میں 1994 سے جاری انسدادِ پولیو کی کوششوں کے باوجود جہاں مزید کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں پولیو کے قطرے پلانے والے رضاکاروں کے لیے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی جاری وبا نے ان ورکرز کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ مزید جانیے نذر الاسلام کی اس رپورٹ میں