فرانس میں کرونا کی دوسری لہر، پیرس سمیت نو شہروں میں رات کا کرفیو
فرانس میں کرونا وائرس کی دوسری لہر آنے کے بعد دارالحکومت پیرس سمیت نو شہروں میں رات کا کرفیو عائد کرنے کا اعلان ہو گیا ہے۔ کرفیو کی یہ پابندیاں ہفتے سے نافذ العمل ہوں گی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے بدھ کو ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا۔
انہوں نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پیرس اور دیگر آٹھ شہروں میں رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک شٹ ڈاؤن رہے گا اور یہ پابندیاں آئندہ چھ ہفتوں تک نافذ رہیں گی۔
اٹلی میں کرونا وائرس کے ریکارڈ یومیہ کیسز رپورٹ
اٹلی میں کرونا وائرس کی دوسری لہر اپنا زور دکھا رہی ہے۔ اٹلی میں بدھ کو سات ہزار 300 سے زائد ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔ اٹلی میں وبا کے آغاز سے اب تک ایک روز کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اٹلی میں بھی کرونا وائرس کی دوسری لہر کو روکنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اٹلی میں عالمی وبا کے آغاز سے لے کر اب تک تین لاکھ 72 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ 36 ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
امریکہ: کیا اسکول کھلنے سے کرونا پھیلنے کا خطرہ ہے؟
امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث گزشتہ چھ ماہ سے بند اسکول اب کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ بچوں میں کرونا کی علامات پر نظر رکھیں اور ساتھ ہی ماہرین بھی تحقیق میں مصروف ہیں کہ بچے اس وائرس سے کیسے متاثر ہوتے ہیں اور اسے کیسے دوسروں تک لے جاتے ہیں؟ مزید دیکھیے اس رپورٹ میں۔
شفایابی کے بعد کرونا کے دوسرے حملے میں پہلی ہلاکت
نیدرلینڈز کی ایک معمر خاتون پر دوسری بار کرونا وائرس کا حملہ ہوا جس میں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے کہ وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد انسان کے اندر اس وبا کے خلاف کب تک مدافعت برقرار رہتی ہے اور یہ کہ حملے کے بعد انسان کے اندر پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کتنی مدت تک فعال رہتی ہیں۔
کرونا کے دوسرے حملے میں موت کے منہ میں چلی جانے والی خاتون کی عمر 89 سال تھی اور وہ کینسر کے مرض میں بھی مبتلا تھیں۔
نیدرلینڈز کی ماسٹریٹ میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کینسر کی وجہ سے خاتون کا مدافعتی نظام کمزور پڑ چکا تھا لیکن اسے جس طرح کی دیکھ بھال اور علاج فراہم کیا گیا وہ کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے کافی تھا۔
خاتون کو اس سال کے شروع میں کھانسی اور بخار کی علامات کے ساتھ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں اس کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا تھا۔ اسے پانچ روز کے بعد کرونا کی علامات ختم ہونے کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی۔
لیکن تقریباً دو ماہ کے بعد اس میں کھانسی، بخار اور سانس لینے میں دشواری کی علامتیں دوبارہ ظاہر ہوئیں۔ جب اس کا ٹیسٹ کیا گیا تو پتا چلا کہ اس کے اندر اینٹی باڈیز موجود نہیں تھیں، جو کہ ہونی چاہیں تھیں۔ خاتون علاج اور دیکھ بھال کے باوجود دو ہفتوں میں چل بسیں۔
کرونا وائرس کے دونوں حملوں کے درمیانی عرصے میں خاتون کے دوبارہ ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔ لیکن بعد ازاں جب وائرس کے پہلے اور نئے نمونوں کا مطالعہ کیا گیا تو پتا چلا کہ دونوں کی جینیاتی ساخت مختلف تھی۔جس سے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا یہ پہلے وائرس کا تسلسل نہیں تھا بلکہ کرونا کا دوسرا اور نیا حملہ تھا۔