کرونا پابندیوں میں نرمی، نیٹ فلکس کے صارف بھی کم ہونے لگے
امریکہ کی سب سے بڑی اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس کے صارفین کی تعداد پچھلے چار سال کے مقابلے میں سب سے کم ہو گئی ہے۔
کمی کی وجوہات اسٹریمنگ کمپنیز کے درمیان مقابلہ، کرونا وائرس کے باعث عائد ہونے والی پابندیوں میں نرمی اور ٹی وی پر کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی قرار دی جا رہی ہیں۔
'رائٹرز' کے مطابق اگرچہ 30 ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران دنیا بھر میں نیٹ فلکس کے صارفین میں 22 لاکھ کا اضافہ ہوا لیکن اس سے 34 لاکھ صارفین حاصل کرنے کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا بلکہ اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے کی گئی پیشگوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق فی شیئر آمدنی بھی تجزیہ کاروں کی توقعات کے مقابلے میں کم رہی۔ انہوں نے فی شیئر آمدنی کا تخمینہ 2.14 ڈالر لگایا گیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیوں کہ فی شیئر آمدنی 1.74 ڈالر رہی۔
نیٹ فلکس رواں سال سب سے زیادہ منافع کمانے والی کمپنی ثابت ہوئی کیوں کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤں کے باعث لوگ گھروں تک محدود رہے اور وقت گزارنے کے لیے انہوں نے نیٹ فلکس استعمال کیا۔ لیکن منگل کو کاروباری اوقات کار میں نیٹ فلکس کے حصص 6 فی صد تک گرگئے۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 19 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 6692 ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 660 افراد متاثر ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 24 ہزار 744 ہو گئی ہے۔ جن میں سے 3 لاکھ 8ہزار 674 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 9378 افراد کا علاج اب بھی جاری ہے۔ جن میں سے 559 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 26ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد ٹیسٹس کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 49 ہزار ہو گئی ہے۔
بھارت: کرونا کیسز میں کمی لیکن فروری تک آدھی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ
بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا کیسز میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ گزشتہ تین مہینوں میں پہلی بار 50 ہزار سے کم افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ اموات کی تعداد میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 46,791 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ 584 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ بھارت میں مجموعی کیسز کی تعداد تقریباً 76 لاکھ ہے اور اب تک ایک لاکھ پندرہ ہزار 197 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کرونا کی وبا ستمبر کے وسط میں اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی لیکن اب کیسز میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔
اسی دوران حکومت کے مقرر کردہ سائنس دانوں کی ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ موسمِ سرما اور آنے والے تہواروں کے سیزن میں اگر لوگوں نے احتیاط نہ برتی تو ایک ماہ میں کرونا کے مثبت کیسز میں 26 لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی اس کمیٹی نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ آئندہ سال فروری تک ملک کی نصف آبادی کرونا وبا سے متاثر ہو سکتی ہے۔
کرونا کی تشخیص کے لیے بھارت میں تیز رفتار 'پیپر ٹیسٹ' متعارف
بھارت کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بہت جلد تیز رفتار اور سستا کرونا ٹیسٹ متعارف کرایا جائے گا جس سے تیزی سے پھیلتی وبا کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔
بھارتی سائنس دان حمل کی تصدیق کے لیے استعمال ہونے 'والی پیپر اسٹرپ' کی طرز پر کرونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کٹ تیار کر رہے ہیں جسے 'فلیوڈا' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک گھنٹے میں نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 75 لاکھ سے زیادہ ہے۔ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ کے بعد بھارت کا دوسرا نمبر ہے۔ وہاں ممبئی جیسے گنجان آباد شہروں سے لے کر محدود طبی سہولیات رکھنے والے دیہی علاقوں تک، ہر جگہ وبائی مرض پھیلا ہوا ہے۔
محققین پر امید ہیں کہ 'پیپر ٹیسٹ' کم قیمت اور استعمال میں سہل ہونے کے سبب غربت زدہ اور دور دراز علاقوں میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے گا۔
نئی دہلی کے 'انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انٹی گریٹیو بائیولوجی' (سی ایس آئی آر) سے وابستہ سائنس دان اور ریسرچر سووک میتی کا کہنا ہے اس ٹیسٹ کے لیے نہ تو غیر معمولی جدید آلات کی ضرورت ہے اور نہ ہی اعلیٰ تربیت یافتہ عملہ درکار ہو گا بلکہ کوئی بھی شخص آسانی سے خود یہ ٹیسٹ کر سکے گا۔