'ریاست پینسلوینیا میں اب کاروبارِ زندگی معمول پر آ جانا چاہیے'
ایسے میں جب امریکہ کی ریاست پینسلوینیا میں کرونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاست میں اب کاروبارِ زندگی معمول پر آ جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ منگل کو انتخابی مہم کے سلسلے میں سوئنگ اسٹیٹ سمجھی جانے والی ریاست پینسلوینیا پہنچے تھے۔ ایئر پورٹ پر جمع ہونے والے اپنے حامیوں سے خطاب میں صدر نے کہا کہ اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس ریاست میں ہو کیا رہا ہے۔
ریاست میں کرونا وائرس کی شدت کے تناظر میں ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر ٹام وولف نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں یہ پابندیاں طویل عرصے سے جاری ہیں اور اب انہیں ہٹا دیا جانا چاہیے۔
صدر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ اپنے گورنر سے کہیں کہ ریاست کو کھول دیں۔"
ریاست پینسلوینیا کو تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے حوالے سے اہم ریاست تصور کیا جاتا ہے اور صدر ٹرمپ اور نائب صدر پینس انتخابی مہم کے دوران متعدد بار اس ریاست کا دورہ کر چکے ہیں۔
جرمنی میں ایک دن میں ریکارڈ کیسز کی تصدیق
جرمنی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11 ہزار 287 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ایک دن میں سامنے آنے والے یہ سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
جرمنی میں بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح حالیہ ہفتوں میں کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ حکام نے وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ جب کہ بڑے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی میں تین لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ 9875 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
بھارت میں سات لاکھ 15 ہزار فعال کیسز
بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 7 لاکھ 15 ہزار 812 افراد زیرِ علاج ہیں۔
حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 68 لاکھ 74 ہزار افراد وبا سے متاثر ہوئے تھے جن میں سے ایک لاکھ 16 ہزار 616 اموات ہوئی ہیں۔
ملک بھر میں سب سے زیادہ کیسز ریاست مہاراشٹرا میں سامنے آئے جہاں 16 لاکھ 17 ہزار افراد وبا سے متاثر ہوئے۔
کرونا بحران: کاروبار تو کھل گیا لیکن مشکلات برقرار
پاکستان میں کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئے تقریباً دوسرا مہینہ ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو پا رہے۔ معیشت کے اعداد و شمار جو کہانی بتا رہے ہیں وہ اصل زندگی میں کیسے نظر آ رہی ہے؟ دیکھیے لاہور سے ثمن خان کی اس رپورٹ میں۔