کرونا وائرس کی پہلی باضابطہ دوا کی منظوری دے دی گئی
امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے) نے کرونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے 'ریم ڈس وائر' کو پہلی باضابطہ دوا کے طور پر منظور کر لیا ہے۔ ریمیڈس وائر ایک اینٹی وائرل دوا ہے، جو اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کو دی جائے گی۔
اس دوا کو ریاست کیلیفورنیا میں قائم گِلی ایڈ سائنسز نے ویکلری کا نام دیا گیا ہے۔ اس دوا سے مریض اوسطاً 15 کی بجائے 10 روز میں صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اس دوا پر یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے گِلی ایڈ کے ساتھ مل کر تحقیق کی تھی۔
اِس سال موسم بہار سے ریم ڈس وئر کو صرف ہنگامی بنیادوں پر دیا جا رہا تھا۔ تاہم اب یہ پہلی ایسی دوا کے طور پر سامنے آئی ہے جسے کووڈ-19 کے علاج کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایدمنسٹریشن کی مکمل منظوری حاصل ہو گئی ہے۔
اس ماہ کے آغاز پر جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے، تب اُنہیں بھی یہی دوا دی گئی تھی۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد ایک بار پھر 10 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس کے زیرِ علاج افراد کی تعداد ایک بار پھر 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 847 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 27 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے 3 لاکھ 10 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 6727 افراد کی موت ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 10ہزار 235 افراد زیرِ علاج ہیں۔ ان میں سے 586 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
ایشیا میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز
ایشیا میں ہفتے کے روز کرونا وائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز کے بعد براعظم میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایشیا میں بھارت عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں۔ جہاں دنیا بھر میں رپورٹ کیے جانے والے کیسز میں سے 21 فی صد کیس رپورٹ کیے گئے۔
دنیا بھر میں وبا کے سبب ہونے والی مجموعی اموات میں سے 12 فی صد ہلاکتیں بھی بھارت میں ہوئی ہیں۔
بھارت کے مشرق میں واقع ملک بنگلہ دیش خطے میں وبا سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جہاں لگ بھگ 4 لاکھ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک انڈونیشیا میں 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 3 لاکھ 27 ہزار ہے۔
'یورپ کو 2021 کے وسط تک کرونا کے خلاف نبرد آزما رہنا پڑے گا'
فرانس نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو کم از کم 2021 کے وسط تک کرونا وائرس کے خلاف نبرد آزما رہنا پڑے گا۔
یورپ میں یومیہ رپورٹ ہونے والوں کیسز کی تعداد گزشتہ 10 دن میں دو گنا ہو چکی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یورپ میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 78 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ جب کہ لگ بھگ 2 لاکھ 47 ہزار افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
یورپ میں فرانس کرونا وائرس کی دوسری لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
فرانس میں جمعے کو کرونا وائرس سے مزید 42 ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔