بھارت میں مزید 50 ہزار سے زائد کیس رپورٹ
دنیا بھر میں امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں یومیہ رپورٹ کیے جانے والے کیسوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے اور چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 50 ہزار 129 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پچھلے ماہ بھارت میں یومیہ رپورٹ کیے جانے والے کیسوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی تھی۔
وزارتِ صحت کے مطابق بھارت میں اتوار کو رپورٹ ہونے والے کیسز کے بعد اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 79 لاکھ کے قریب جا پہنچی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق اتوار کو اس وبا کے سبب 578 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد اس وبا سے اموات کی تعداد ایک لاکھ 18 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
بھارت میں اس وبا سے لگ بھگ 71 لاکھ افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
چین: کاشغر میں 137 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص
چین کے شہر کاشغر میں اتوار کو 137 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان افراد میں کرونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔
چینی وزارتِ صحت کے مطابق یہ 137 افراد اسی گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ جہاں ہفتے کے روز کرونا وائرس کا شکار ہونے والی 17 سالہ لڑکی کام کرتی تھی جس میں بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامات موجود نہیں تھیں۔
شہری حکومت کے مطابق کرونا وائرس کے کیس سامنے آنے کے بعد ہفتے کی رات سے کاشغر کے 47 لاکھ سے زائد شہریوں کا کرونا ٹیسٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اتوار کی دوپہر تک 28 لاکھ سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جن کے نتائج دو دنوں میں آئیں گے۔
اسپین میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایمرجنسی نافذ
اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کرونا وائرس کے سبب ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایمرجنسی کے دوران اسپین میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کیا جائے گا اور مخصوص علاقوں میں سفر کرنے پر پابندی عائد ہو گی۔
صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلے پچاس سالوں میں ملک کو اس وقت سب سے سنجیدہ حالات کا سامنا ہے۔
اسپین میں 15 دنوں سے زیادہ ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز نے پارلیمان سے اگلے سال نو مئی تک ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔
خیال رہے کہ کرونا کی دوسری لہر آنے کے بعد اب تک اسپین میں 10 لاکھ سے زائد افراد اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں جب کہ اس وبا کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 35 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
آسٹریلیا: میلبرن میں تقریباً چار ماہ بعد لاک ڈاون ختم کرنے کا اعلان
آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبرن میں کرونا وائرس کے باعث عائد لاک ڈاؤن کی سخت پابندیاں لگ بھگ چار ماہ بعد ختم ہونے جا رہی ہیں۔
حکام نے پیر کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میلبرن کے شہریوں پر عائد پابندیاں منگل اور بدھ کی درمیانی شب اٹھا لی جائیں گی جس کے بعد ریستوران، بیوٹی سیلونز اور دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت ہو گی۔
یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کا کوئی بھی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ میلبرن شہر ریاست وکٹوریہ میں واقع ہے۔
وکٹوریہ کے وزیرِ اعلیٰ ڈینیل اینڈریوس نے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے اس دن کو "جذباتی دن" قرار دیا ہے۔