آسٹریلیا: میلبرن میں تقریباً چار ماہ بعد لاک ڈاون ختم کرنے کا اعلان
آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبرن میں کرونا وائرس کے باعث عائد لاک ڈاؤن کی سخت پابندیاں لگ بھگ چار ماہ بعد ختم ہونے جا رہی ہیں۔
حکام نے پیر کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میلبرن کے شہریوں پر عائد پابندیاں منگل اور بدھ کی درمیانی شب اٹھا لی جائیں گی جس کے بعد ریستوران، بیوٹی سیلونز اور دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت ہو گی۔
یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کا کوئی بھی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ میلبرن شہر ریاست وکٹوریہ میں واقع ہے۔
وکٹوریہ کے وزیرِ اعلیٰ ڈینیل اینڈریوس نے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے اس دن کو "جذباتی دن" قرار دیا ہے۔
کرونا وائرس: سری لنکن پارلیمنٹ دو روز کے لیے بند
سری لنکا کی پارلیمان میں ڈیوٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد پارلیمنٹ کی عمارت کو بند کر دیا گیا ہے۔
سری لنکن پارلیمنٹ کی عمارت پیر سے دو روز کے لیے بند رہے گی اور اس دوران عمارت میں جراثیم کش ادویات کا اسپرے کیا جائے گا۔
سری لنکا میں رواں ماہ کے آغاز میں ایک جرمن فیکٹری کے متعدد ملازمین کرونا وائرس کا شکار پائے گئے تھے جس کے بعد سے اب تک 4400 کیسز سامنے آ چکے ہیں جو ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 7872 کے نصف سے بھی زائد ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سری لنکا میں 351 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکومت نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اجتماعات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے جب کہ اسکول بھی بند ہیں۔
سری لنکا کے کچھ علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کرفیو عائد کیا گیا ہے۔ ہزاروں لوگوں کو گھروں میں قرنطینہ میں رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جب کہ آٹھ ہزار سے زائد افراد فوج کے زیرِ انتظام قرنطینہ مراکز میں رہ رہے ہیں۔
کرونا پر قابو پانے سے زیادہ توجہ ویکسین اور ادویات کی تیاری پر ہے: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ وبا پر قابو پانے کے بجائے ویکسین اور ادویات کی تیاری پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
مارک میڈوز کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کرونا وائرس کیسز میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور وبا کے حوالے سے حکومت کی حکمتِ عملی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کو دیے گئے انٹرویو میں مارک میڈوز نے کہا کہ "جہاں ہم آج ہیں، ہم پہلے سے بہت بہتر ہیں اس پر صدر ٹرمپ نے بہت کام کیا ہے، اگر بائیڈن ہوتے تو وہ سب کچھ بند کر دیتے۔"
مارک میڈوز نے صدر ٹرمپ کی کرونا پالیسی کا دفاع ایسے موقع پر کیا جب امریکی صدارتی انتخاب میں محض نو دن رہ گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن نے، جو اس وقت قومی اور اکثر ریاستوں کے عوامی جائزوں میں صدر ٹرمپ سے آگے ہیں، اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں میڈوز کی زبان نہیں پھسلی، یہ اس بات کا اقرار تھا کہ اس مسئلے کی ابتدا سے صدر ٹرمپ کی کیا پالیسی تھی۔"
عالمی شہرت یافتہ سابق فٹ بالر رونالڈینیو بھی کرونا وائرس کے شکار
برازیل کے سابق فٹ بالر رونالڈینیو کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ بیماری کی تشخیص کے بعد انہوں نے خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا ہے اور وہ ان دنوں ایک ہوٹل میں مقیم ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق رونالڈینیو برازیل کے شہر بیلو ہوریزونٹے میں مقامی فٹ بال کلب کی جانب سے کھیل رہے تھے جہاں اُن میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
رونالڈینیو نے اتوار کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ گزشتہ روز بیلو ہوریزونٹے پہنچے تھے جہاں اُن کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہوا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔
ان کے بقول وہ ٹھیک ہیں اور ان میں اب تک کرونا وائرس کی بظاہر کوئی علامت نہیں۔
رونالڈینیو کا کہنا ہے کہ جب تک اُن کی طبیعت بہتر نہیں ہوجاتی، وہ ہوٹل میں ہی قیام کریں گے۔