عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے خود کو قرنطینہ کر لیا
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم گیبراسس نے کہا ہے کہ اُن سے ملنے والے ایک شخص کے کرونا مثبت آنے کی وجہ سے وہ خود کو قرنطینہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اُن میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔
اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ’’میرا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا تھا جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ میں ٹھیک ہوں اور مجھ میں کوئی علامات نہیں ہیں مگر میں عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکولز کے تحت آنے والے دنوں کے لیے خود کو قرنطینہ کر رہا ہوں، اور گھر سے کام کروں گا۔‘‘
جب سے عالمی وبا شروع ہوئی ہے اس وقت سے ٹیڈروس اس کے خلاف عالمی ادارۂ صحت کی کوششوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔
بل گیٹس سے 'گمنام ہیرو' کا خطاب پانے والا پاکستانی
برطانیہ میں کرونا ٹیسٹ کی آزمائشی اسکیم
برطانوی حکومت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے رواں ہفتے سے شہر لیورپول میں کرونا ٹیسٹوں کی آزمائشی اسکیم شروع کرے گی۔
اس اسکیم کے تحت تمام شہریوں کے کرونا ٹیسٹ کیے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ اُن میں کرونا وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں یا نہیں۔
یورپی ممالک میں کرونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتیں برطانیہ میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ وبا کی دوسری لہر کے پیشِ نظر برطانیہ میں جمعرات سے لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کا شمال مغربی علاقہ لیور پول کرونا وبا سے شدید متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ جہاں مذکورہ اسکیم کے تحت رہائش پذیر اور کام کے لیے آنے والے افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برطانیہ میں اب تک دس لاکھ سے زائد افراد کرونا وبا سے متاثر اور 46 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
برطانیہ: لاک ڈاؤن سے پہلے ریستورانوں اور بارز میں رش
برطانیہ میں جمعرات سے کرونا وائرس کے سبب دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے پہلے بدھ کی شب لندن میں شہریوں نے بڑی تعداد میں ریستورانوں اور بارز کا رُخ کیا۔
ریستورانوں میں بکنگ سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق ریستورانوں میں آنے والے لوگوں میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔
برطانوی حکومت نے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث جمعرات سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ لاک ڈاؤن ایک ماہ تک برقرار رہے گا۔
خیال رہے کہ یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں برطانیہ سے رپورٹ کی گئی ہیں۔ جب کہ برطانیہ میں یومیہ 20 ہزار سے زائد کرونا کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو کرونا وائرس سے اموات 80 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہیں۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق برطانیہ میں وبا سے 11 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ 47 ہزار 832 اموات ہوئی ہیں۔