رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:27 3.11.2020

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے خود کو قرنطینہ کر لیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم گیبراسس نے کہا ہے کہ اُن سے ملنے والے ایک شخص کے کرونا مثبت آنے کی وجہ سے وہ خود کو قرنطینہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اُن میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ’’میرا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا تھا جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ میں ٹھیک ہوں اور مجھ میں کوئی علامات نہیں ہیں مگر میں عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکولز کے تحت آنے والے دنوں کے لیے خود کو قرنطینہ کر رہا ہوں، اور گھر سے کام کروں گا۔‘‘

جب سے عالمی وبا شروع ہوئی ہے اس وقت سے ٹیڈروس اس کے خلاف عالمی ادارۂ صحت کی کوششوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

10:29 3.11.2020

بل گیٹس سے 'گمنام ہیرو' کا خطاب پانے والا پاکستانی

10:40 3.11.2020

برطانیہ میں کرونا ٹیسٹ کی آزمائشی اسکیم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

برطانوی حکومت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے رواں ہفتے سے شہر لیورپول میں کرونا ٹیسٹوں کی آزمائشی اسکیم شروع کرے گی۔

اس اسکیم کے تحت تمام شہریوں کے کرونا ٹیسٹ کیے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ اُن میں کرونا وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں یا نہیں۔

یورپی ممالک میں کرونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتیں برطانیہ میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ وبا کی دوسری لہر کے پیشِ نظر برطانیہ میں جمعرات سے لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کا شمال مغربی علاقہ لیور پول کرونا وبا سے شدید متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ جہاں مذکورہ اسکیم کے تحت رہائش پذیر اور کام کے لیے آنے والے افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برطانیہ میں اب تک دس لاکھ سے زائد افراد کرونا وبا سے متاثر اور 46 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

10:24 5.11.2020

برطانیہ: لاک ڈاؤن سے پہلے ریستورانوں اور بارز میں رش

فائل فوٹو
فائل فوٹو

برطانیہ میں جمعرات سے کرونا وائرس کے سبب دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے پہلے بدھ کی شب لندن میں شہریوں نے بڑی تعداد میں ریستورانوں اور بارز کا رُخ کیا۔

ریستورانوں میں بکنگ سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق ریستورانوں میں آنے والے لوگوں میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔

برطانوی حکومت نے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث جمعرات سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ لاک ڈاؤن ایک ماہ تک برقرار رہے گا۔

خیال رہے کہ یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں برطانیہ سے رپورٹ کی گئی ہیں۔ جب کہ برطانیہ میں یومیہ 20 ہزار سے زائد کرونا کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو کرونا وائرس سے اموات 80 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق برطانیہ میں وبا سے 11 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ 47 ہزار 832 اموات ہوئی ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG