دنیا بھر میں ایک ہی روز چھ لاکھ 60 ہزار سے زائد کرونا کیسز کا نیا ریکارڈ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ہفتے کو دنیا بھر میں کرونا وائرس کے ایک ہی روز میں ریکارڈ چھ لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والی اس وبا کے بعد دنیا بھر میں ایک روز کے دوران رپورٹ ہونے والے یہ سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس سے قبل جمعے کو کرونا کے چھ لاکھ 45 ہزار جب کہ اس سے قبل سات نومبر کو چھ لاکھ 14 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
ہفتے کو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق نئے کیسز میں دو لاکھ 85 ہزار کیسز سے زائد کیس یورپ جب کہ دو لاکھ 69 ہزار سے زائد کیسز امریکی خطے میں رپورٹ ہوئے۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم گیبراسس نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے اب بھی دنیا کو طویل سفر طے کرنا ہے۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک مجموعی طور پر پانچ کروڑ 43 لاکھ 87 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ہم اپنے جلسے ختم کر رہے ہیں، دوسروں سے بھی ایسا کرنے کا کہیں گے: عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر ملک بھر میں اپنے جلسے ختم کر رہے ہیں جب کہ دوسروں سے بھی جلسے ختم کرنے کا کہیں گے۔
پیر کو اسلام آباد میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ وائرس مزید مؤثر ہو گیا اور پاکستان میں گزشتہ چھ سے سات روز کے دوران کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ شادی ہالز میں ان ڈور کیٹرنگ پر پابندی ہو گی جب کہ آؤٹ ڈور کیٹرنگ میں 300 مہمانوں کی اجازت ہو گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ماسک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو جون کے مہینے کی طرح اسپتال مریضوں سے دوبارہ بھر سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فی الحال ریستوران بند نہیں کر رہے لیکن اُنہیں سماجی فاصلے یقینی بنانا ہوں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کی بندش کے حوالے سے فیصلہ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ صورتِ حال کا جائزہ لیں گے اگر کیسز بڑھے تو اسکولوں میں سردیاں کی چھٹیاں بڑھا دیں گے جب کہ گرمیوں کی چھٹیاں صرف ایک ماہ کی ہوں گی۔
امریکہ: کیسز میں اضافے کے بعد مختلف ریاستوں میں پابندیاں عائد
امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کرنے کے بعد متعدد ریاستوں میں حکام نے نئی پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔
مشی گن کے گورنر گریچن وہٹمر نے ریستورانوں میں بیٹھ کر کھانا کھانے، ہائی اسکولوں اور کالجوں کے طالب علموں کو تعلیم کے لیے کیمپس جانے، کیسینو اور سنیما گھروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وبا کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ اس لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔
شمال مغربی ریاست واشنگٹن کے گورنر جے اِنسلی نے بھی ریستورانوں میں بیٹھ کر کھانا کھانے پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ اسٹورز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک وقت میں گنجائش کے 25 فی صد سے زائد گاہکوں کو اندر آنے کی اجازت نہ دیں۔
گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ میں ڈیڑھ لاکھ تک یومیہ کیسز سامنے رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ملک بھر میں اب تک کووڈ 19 سے دو لاکھ 46 ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔
امریکہ کے معروف ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے توقع ظاہر کی ہے کہ کرونا ویکسین چند ہفتوں میں دستیاب ہو گی اور ملک میں کرونا وائرس پر آئندہ برس اپریل یا جولائی میں بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔
کرونا وائرس: پاکستان میں 300 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی
پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر 300 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جلسے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کی ہے۔
پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد عوام سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چھ، سات روز کے دوران کرونا وائرس کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔
اُن کے بقول اگر صورتِ حال یہی رہی تو پاکستان میں جون کے مہینے جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں جب اسپتالوں میں گنجائش کم پڑنے لگی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ شادی ہالوں میں اِن ڈور کیٹرنگ پر پابندی ہو گی جب کہ آؤٹ ڈور کیٹرنگ میں 300 مہمانوں کی اجازت ہو گی۔