پاکستان میں چار ماہ بعد 2700 سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں چار ماہ کے بعد ایک دن میں کرونا وائرس کے 2700 سے زائد سے کیسز سامنے آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2738 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ قبل ازیں 13 جولائی کو 2769 کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد کیسز کی شرح میں کمی آنا شروع ہو گئی تھی۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 3 لاکھ 27 ہزار 500 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 33 ہزار 562 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں جب کہ زیرِ علاج افراد میں سے 1517 انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
پاکستان میں چار ماہ بعد 40 سے زائد یومیہ اموات
پاکستان میں کرونا وائرس سے چار ماہ بعد ایک دن میں 40 سے زائد اموات ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں وبا سے 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 7603 ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں جولائی کے بعد اموات کی شرح میں کمی آنا شروع ہوئی تھی۔ 24 جولائی کو ملک بھر میں وبا سے 56 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ اس کے بعد اگست میں اموت کی شرح کم ہوئی تو ستمبر اور اکتوبر میں یومیہ اموات کی شرح 10 سے کم ہو گئی تھی۔ البتہ اکتوبر کے آخر سے ایک بار پھر ہلاکتوں کی شرح بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں میں اموات کی شرح کافی حد تک بڑھ چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام سے مسلسل احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کے لیے بھی زور دیا جا رہا ہے۔ جب کہ ملک کئی کئی علاقوں میں مائیکرو لاک ڈاؤن بھی لگائے جا رہے ہیں۔
بھارت میں کرونا کی صورت حال پھر سنگین، متاثرہ افراد اور اموات میں اضافہ
بھارت کے دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ایک بار پھر کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ریاست ہماچل پردیش کے لاہول علاقے میں ایک گاؤں کے تمام افراد کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
گجرات میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے احمد آباد میں جمعہ کی شب نو بجے سے 57 گھنٹے کے مکمل کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے کرونا کیسز میں اضافے پر دہلی حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غنودگی سے بیدار ہو جائے۔
وزیرِ اعلیٰ اروند کیجری وال نے آن لائن پریس کانفرنس میں عوام سے اپیل کی کہ وہ بھیڑ بھاڑ سے بچیں اور ماسک کا استعمال کریں۔
فائزر دسمبر میں ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار
دوا ساز کمپنی فائزر نے کہا ہے کہ اس نے امریکی ریگولیٹرز سے درخواست کی ہے کہ اسے کووڈ۔19 کے لیے اپنی تیار کردہ ویکسین کی ایمرجنسی میں استعمال کی فوری اجازت دی جائے، جس کی پہلی خوراک وہ اگلے مہینے تک فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سردست وہ صرف محدود مقدار میں ہی ویکیسن فراہم کر سکے گی جسے ایمرجنسی میں ہی استعمال کیا جا سکے گا۔
فائزر کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے اختتام سے قبل زیادہ مقدار میں ویکسین کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس کی ویکسین سے مہلک عالمی وبا کرونا وائرس کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
فائزر کی جانب سے یہ اعلان ان کی جانب سے اس دعویٰ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس کی ایک جرمن بائیوٹیک کمپنی کی شراکت میں تیار کی جانے والی ویکسین کرونا وائرس کے خلاف 95 فی صد تک مؤثر ہے۔
فائزر نےکہا ہے کہ اس کی ویکسین کے تجربات کی کامیابی کی حتمی شرح 95 فی صد رہی ہے۔