پاکستان میں تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان
پاکستان میں 26 نومبر سے 10 جنوری تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور آئندہ ماہ ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات شفقت محمود نے بین الصوبائی وزرائے تعلیم سے مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک ملک بھر کے تمام اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور ٹیوشن سینٹرز بند رہیں گے۔
اُن کے بقول 24 دسمبر سے 10 جنوری تک ملک بھر میں موسمِ سرما کی تعطیلات ہوں گی جس کے بعد گیارہ جنوری کو حالات بہتر ہونے کی صورت میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔
شفقت محمود نے کہا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک آن لائن تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور جن اداروں میں یہ سہولت موجود نہیں وہاں ہوم ورک ہو گا۔
وفاقی وزیرِ تعلیم کے مطابق دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں جو آئندہ برس جنوری میں ہوں گے۔
شفقت محمود نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں کرونا وائرس کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد گیارہ جنوری کو تمام تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔
دنیا کے کئی ممالک نے کرونا ویکسین تقسیم کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں
دنیا کے مختلف ملکوں نے اتوار سے کرونا وائرس ویکسین کی تقسیم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جرمنی اور امریکہ اگلے مہینے سے آبادی کے چند حصوں کو ویکسین دینے کا آغاز کر دیں گے۔
جرمنی کے وزیرِ صحت جینز سپاہن نے اتوار کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے لیے پرامید رہنا چاہیے کہ اس سال کے اختتام سے پہلے یورپ میں ویکسین کی منظوری دے دی جائے گی اور اس کی تقسیم فوری طور پر شروع ہو جائے گی۔
امریکہ میں ابتدائی منصوبے کے مطابق 12 دسمبر سے چند گروپس کو ویکسین کی خوراک دینے کا آغاز کر دیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) 10 دسمبر کو فائزر کی ویکسین کا جائزہ لے کر اس کی منظوری دے گی۔
خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمنی کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے تیار کی جانے والی کرونا ویکسین 90 فی صد مؤثر ثابت ہوئی تھی۔
کرونا وائرس: مئی تک امریکہ میں زندگی معمول پر آنے کی اُمید
امریکہ میں کرونا وائرس ویکسین کی تیاری اور اس کی تیزی کے ساتھ ترسیل کے حکومتی منصوبے 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مئی تک 'ہرڈ امیونٹی' یعنی بیشتر امریکیوں میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو سکتی ہے۔
اتوار کو ایک انٹرویو کے دوران 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کے سربراہ مونسیف سلاؤ نے کہا کہ ویکسین کی منظوری ملتے ہی 24 گھنٹوں کے دوران اسے ملک بھر میں مقررہ مقامات تک پہنچا دیا جائے گا۔
ویکسین کی ترسیل کے بعد 'ہرڈ امیونٹی' سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سلاؤ کا کہنا تھا کہ وہ ہر ماہ دو کروڑ افراد کو ویکسین کی خواراک دینے کے قابل ہوں گے۔
اُن کے بقول، " کرونا کی ویکسین اگر 95 فی صد تک مؤثر ہے تو امریکہ کی 70 فی صد آبادی میں اس بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو چکی ہو گی اور ایسا اندازاً مئی 2021 تک ممکن ہو سکے گا۔"
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکام سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ویکسین سب سے پہلے کہاں ذخیرہ کی جائے گی اور کن افراد کو ترجیحی بنیادوں پر یہ دی جائے گی۔
برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرازینیکا کا بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ
برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرازینیکا نے کہا ہے کہ اس کی تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین کی برطانیہ اور برازیل میں جانچ سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ویکسین وبا کو روکنے کے لیے انتہائی مؤثر ہے اور ویکسین لینے والے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس جانچ کے دوران رضاکار مریضوں کو ویکسین کی دو خوراکیں دی گئیں۔ پہلی خوراک سے کرونا وائرس کا 90 فی صد خاتمہ ہوا جب کہ دوسری خورک اوسطاً 70 فی صد تک کامیاب رہی۔
آسٹرازینیکا کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مزید اعدادوشمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ان کا تجزیہ جاری رہے گا جس سے اس ویکسین کے مؤثر ہونے کی صلاحیت کا زیادہ درستگی کے ساتھ اندازہ ہو سکے گا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسین کی جانچ کے شعبے کے چیف انویسٹی گیٹر پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بیان میں کہا ہے کہ نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس اب ایک ایسی مؤثر ویکسین موجود ہے جس سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
آسٹرازینیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس ویکسین کو کم آمدنی والے ممالک کو ہنگامی بنیادں پر فراہم کرنے کے لیے عالمی ادارۂ صحت سے اجازت حاصل کرے گی۔