جرمنی: پرانے ایئرپورٹ کو ویکسینیشن سینٹر بنانے کا فیصلہ
جرمنی میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختلف ویکسینیشن سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں۔ اس غرض سے کئی پرانی، اہم اور بڑی عمارتوں کو ویکسینیشن سینٹر میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
برلن کے ٹیگل ایئر پورٹ کے ٹرمینل 'سی' کو بھی ویکسینیشن سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو دسمبر کے وسط تک مکمل طور پر ویکسینیشن سینٹر میں تبدیل ہوجائے گا۔
جرمنی کو توقع ہے کہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں کرونا وائرس کی ویکسینیشن مہم شروع ہوجائے گی۔ لہذا پہلے ہی ملک بھر میں 60 ویکسینیشن سینٹرز کا ابتدائی کام مکمل ہو چکا ہے۔
فروری میں ملک میں کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کو محدود اور ریستورانوں میں کھانے کی سہولیات ختم کیے جانے کے بعد سے اب تک کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں ٹھہراؤ آگیا تھا۔ لیکن اکتوبر کے وسط سے ملک میں شروع ہونے والی کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جرمنی میں جمعے کو مزید 32 ہزار 287 نئے کیسز اور تقریباً 400 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
جان پاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں اب تک 10 لاکھ سے زیادہ کیسز اور 15 ہزار 640 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں مزید 54 اموات، 3100 سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 54 مریض دم توڑ گئے ہیں جب کہ 3113 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک روز کے دوران 43 ہزار 214 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جب کہ اسی عرصے میں 1489 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔
پاکستان میں اب تک عالمی وبا سے 7897 مریض ہلاک اور تین لاکھ 89 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد میں سے تین لاکھ 35 ہزار سے زیادہ مریض شفا یاب ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے زیرِ علاج 2112 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے پر سوالات
برطانوی دواز ساز کمپنی ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین کی کامیابی کی شرح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپی ریگولیٹرز سے ویکسین کی منظوری میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔
متعدد سائنس دانوں نے آسٹرازینیکا کی ویکسین کے نتائج پر خدشات کا اظہار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ تجربات کے دوران ابتدائی طور پر اس میں بعض خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
لندن کے ایمپیریل کالج کے پروفیسر پیٹر اوپنشا کا کہنا ہے کہ ہمیں ویکسین کے تجربات کو مکمل ڈیٹا کا انتظار کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ریگولیٹر ان نتائج سے متعلق کیا کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے ڈرگ ریگولیٹرز کا نکتۂ نظر ممکنہ طور پر اس ویکسین سے متعلق مختلف ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایسٹرازینیکا نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ آکسفورڈ یونیوسٹی کے اشتراک سے بنائی گئی ویکسین کے برطانیہ اور برازیل میں آخری تجربات کیے گئے جس کے نتائج 90 فی صد تک درست پائے گئے۔
تھائی لینڈ کا ویکسین کی خریداری کے لیے معاہدہ
تھائی لینڈ نے برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی کرونا ویکسین خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔
تھائی لینڈ کے قومی ویکسین انسٹی ٹیوٹ نے آسٹرا زینیکا کے ساتھ جمعے کو معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دو کروڑ 60 لاکھ خوراکیں 2021 کے وسط تک فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ویکسین کی یہ خوراکیں تقریباً سات کروڑ آبادی والے ملک کی ایک کروڑ 30 لاکھ آبادی کے لیے کافی ہوں گی۔ معاہدے کی مالیت سات کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہے۔
اس معاہدے کے علاوہ وزارتِ صحت کے ڈیزیز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے بھی ایک معاہدہ کیا ہے جس کی مالیت ایک ارب 21 کروڑ ڈالر ہے اور اسے 'اے زیڈ ڈی 1222' کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔