فرانس میں ضروری اشیا کے علاوہ بعض دیگر دکانیں کھولنے کی بھی اجازت
فرانس اور یورپ کے بعض ممالک نے ضروری اشیا کے علاوہ بعض دیگر کاروبار کھولنے کی بھی اجازت دے دی ہے تاہم بازار اور ریستوران بدستور بند رہیں گے۔
خبر رساں ادارے 'فرانس 24' کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ میں کچھ کمی آنے اور کرسمس کی چھٹیوں کے پیشِ نظر بعض کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
کئی ممالک کرسمس اور نئے سال کے پیشِ نظر پابندیوں میں ںرمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کو اُمید ہے کہ یہ کرونا وبا کی آخری لہر ثابت ہو گی کیوں کہ اس کے بعد ویکسین کی فراہمی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ فرانس میں جمعے کو 12 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ گزشتہ جمعے 22 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کو کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے سے متعلق مزید ڈیٹا درکار
عالمی ادارہؐ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں ویکسین کے اعلی ماہر نے کہا ہے کہ کرونا ویکسینز کے مستند ہونے کا اعلان صرف پریس ریلیز کے بجائے ان کے مؤثر ہونے کی یقین دہانی کے لیے مزید ڈیٹا سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر برائے ویکسین اور امیونائزیشن کیٹ او برائین کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا ویکسین کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو کس حد تک کم کیا جا سکے گا۔
جمعے کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ انہیں یہ معومات فراہم کی جائیں کہ کیا ویکسین صرف وبا سے محفوظ رکھتی ہے یا اس کی روک تھام میں بھی مؤثر ہے۔
برطانوی دوا ساز کمپنی 'ایسٹرازینیکا' کا جمعرات کو کہنا تھا کہ وہ آزمائشی ویکسین کی تیاری کے دوران آنے والی خامی سے متعلق حکومتی ادارے سے تعاون کر رہی ہے۔
ایسٹرازینیکا اور آکسفرڈ یونیورسٹی نے اعتراف کیا کہ ویکسین کی کم خوارک کے نتائج، مکمل خوراک کے نتائج کے مقابلے میں زیادہ مفید ہیں۔
کمپنی کی طرف سے یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے کہ جب کمپنی رواں سال کے آخر تک 40 لاکھ خوارکیں فراہم کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
جرمنی میں اگلے موسمِ بہار تک جزوی لاک ڈاؤن کا عندیہ
جرمنی کے وزیرِ اقتصادیات پیٹر الٹ میئر نے کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی نہ آئی تو جزوی لاک ڈاؤن میں اگلے سال موسم بہار کے اوائل تک توسیع کی جا سکتی ہے۔
جرمن اخبار کو ہفتے کو دیے گئے انٹرویو میں پیٹر الٹ میئر کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ میں سے 50 افراد میں وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے۔ لہذٰا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وبا پر کنٹرول ہو گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر اگلے سال کے چند مہینوں تک یہ پابندیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔
جرمن چانسلر انجیلا مرکل بھی کرونا وائرس کے پیشِ نظر عائد کردہ پابندیوں میں توسیع اور مزید سختی سے متعلق بدھ کو 16 وفاقی ریاستوں کے رہنماؤں سے اتفاق کر چکی ہیں۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 21 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے۔ جس کے بعد ملک میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
فرانس: پابندیوں میں نرمی کے بعد حجام کی دکانوں پر رش
یورپی ملک فرانس میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر نافذ کردہ پابندیوں میں ہفتے کو کی جانے والی نرمی کے بعد حجام کی دکانیں اور اسٹورز جزوی طور پر کھل گئے ہیں اور لوگوں کا رش دیکھا جا رہا ہے۔
رواں سال 30 اکتوبر کو لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں غیر ضروری اشیا جیسے، جوتے، کپڑے اور کھلونوں کی دکانوں کو کھولا گیا ہے جب کہ بارز اور ریستوران اگلے سال 20 جنوری تک بند رہیں گے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک حجام کا کہنا تھا کہ آن لائن بکنگ کے بغیر آنے والے لوگ دکان کے باہر قطار لگائے کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کی وجہ سے گاہک دکان کے اندر انتظار نہیں کر سکتے۔
حکومت کی طرف سے اس شرط کے ساتھ دکانیں کھولی گئی ہیں کہ دکانوں کے اندر زیادہ لوگ نہیں بیٹھ سکیں گے۔ جس کی وجہ سے چھوٹے دکان داروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت کی طرف سے دکان داروں کو دکانیں رات نو بجے تک کھولے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک آ سکیں۔