ڈبلیو ایچ او کو کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے سے متعلق مزید ڈیٹا درکار
عالمی ادارہؐ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں ویکسین کے اعلی ماہر نے کہا ہے کہ کرونا ویکسینز کے مستند ہونے کا اعلان صرف پریس ریلیز کے بجائے ان کے مؤثر ہونے کی یقین دہانی کے لیے مزید ڈیٹا سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر برائے ویکسین اور امیونائزیشن کیٹ او برائین کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا ویکسین کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو کس حد تک کم کیا جا سکے گا۔
جمعے کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ انہیں یہ معومات فراہم کی جائیں کہ کیا ویکسین صرف وبا سے محفوظ رکھتی ہے یا اس کی روک تھام میں بھی مؤثر ہے۔
برطانوی دوا ساز کمپنی 'ایسٹرازینیکا' کا جمعرات کو کہنا تھا کہ وہ آزمائشی ویکسین کی تیاری کے دوران آنے والی خامی سے متعلق حکومتی ادارے سے تعاون کر رہی ہے۔
ایسٹرازینیکا اور آکسفرڈ یونیورسٹی نے اعتراف کیا کہ ویکسین کی کم خوارک کے نتائج، مکمل خوراک کے نتائج کے مقابلے میں زیادہ مفید ہیں۔
کمپنی کی طرف سے یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے کہ جب کمپنی رواں سال کے آخر تک 40 لاکھ خوارکیں فراہم کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
جرمنی میں اگلے موسمِ بہار تک جزوی لاک ڈاؤن کا عندیہ
جرمنی کے وزیرِ اقتصادیات پیٹر الٹ میئر نے کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی نہ آئی تو جزوی لاک ڈاؤن میں اگلے سال موسم بہار کے اوائل تک توسیع کی جا سکتی ہے۔
جرمن اخبار کو ہفتے کو دیے گئے انٹرویو میں پیٹر الٹ میئر کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ میں سے 50 افراد میں وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے۔ لہذٰا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وبا پر کنٹرول ہو گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر اگلے سال کے چند مہینوں تک یہ پابندیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔
جرمن چانسلر انجیلا مرکل بھی کرونا وائرس کے پیشِ نظر عائد کردہ پابندیوں میں توسیع اور مزید سختی سے متعلق بدھ کو 16 وفاقی ریاستوں کے رہنماؤں سے اتفاق کر چکی ہیں۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 21 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے۔ جس کے بعد ملک میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
فرانس: پابندیوں میں نرمی کے بعد حجام کی دکانوں پر رش
یورپی ملک فرانس میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر نافذ کردہ پابندیوں میں ہفتے کو کی جانے والی نرمی کے بعد حجام کی دکانیں اور اسٹورز جزوی طور پر کھل گئے ہیں اور لوگوں کا رش دیکھا جا رہا ہے۔
رواں سال 30 اکتوبر کو لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں غیر ضروری اشیا جیسے، جوتے، کپڑے اور کھلونوں کی دکانوں کو کھولا گیا ہے جب کہ بارز اور ریستوران اگلے سال 20 جنوری تک بند رہیں گے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک حجام کا کہنا تھا کہ آن لائن بکنگ کے بغیر آنے والے لوگ دکان کے باہر قطار لگائے کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کی وجہ سے گاہک دکان کے اندر انتظار نہیں کر سکتے۔
حکومت کی طرف سے اس شرط کے ساتھ دکانیں کھولی گئی ہیں کہ دکانوں کے اندر زیادہ لوگ نہیں بیٹھ سکیں گے۔ جس کی وجہ سے چھوٹے دکان داروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت کی طرف سے دکان داروں کو دکانیں رات نو بجے تک کھولے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک آ سکیں۔
برطانیہ: غلطی سے 1300 افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آ گئے
برطانیہ میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا ٹیسٹ کرنے والے حکومتی ادارے ‘این ایچ ایس’ کی لیبارٹری میں ہونے والی خرابی کے باعث غلطی سے 1300 سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت ظاہر کر دیے گئے۔
این ایچ ایس کے مطابق 1311 ایسے افراد میں غلطی سے کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی تھی۔ جن کے ٹیسٹ رواں ماہ 19 سے 23 نومبر کے درمیان کیے گئے تھے۔
ای میل کے ذریعے جاری کردہ بیان میں ادارے کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کیمیکلز میں ہونے والی خرابی کے باعث ان ٹیسٹوں کو رد کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیسٹوں میں خرابی کی تشخیص کے بعد مذکورہ افراد کو فوری طور پر مطلع کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ فوری طور پر اپنا ٹیسٹ دوبارہ کرائیں۔ بیان کے مطابق ان افراد سے کہا گیا ہے کہ اگر ان میں کرونا کی علامات پائی جاتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو علیحدہ رکھیں۔
بیان کے مطابق لیبارٹری میں آنے والی خرابی کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔