بھارت میں کرونا ویکسین کی لاکھوں ڈوز تیار
بھارت میں اس وقت کرونا سے بچاؤ کی مقامی طور پر تیار کردہ دو ویکسینز پر کام ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی ایک بھارتی کمپنی 'ایسٹرا زینیکا' کی آزمائشی ویکسین کی پیداوار بھی شروع کر چکی ہے۔ بھارتی کمپنیوں کی کوشش ہے کہ کسی بھی ویکسین کی منظوری پر اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنے کی صلاحیت مقامی طور پر موجود ہو۔
پاکستان میں اموات کی تعداد آٹھ ہزار سے متجاوز
پاکستان میں گزشتہ چوبی گھنٹوں کے دوران کروا وائرس سے مزید 40 اموات رپورٹ ہوئی ہے جس کے بعد عالمی وبا کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 8025 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 33 ہزار 302 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2839 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان میں اب تک 55 لاکھ سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد تین لاکھ 98 ہزار سے زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تین لاکھ 41 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اب بھی دو ہزار سے زیادہ مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
'ویکسین آنے کے باوجود ٹیسٹنگ کی اہمیت برقرار رہے گی'
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے میسر ہونے کے باوجود موذی مرض کے خلاف جنگ میں ٹیسٹنگ کی اہمیت برقرار رہے گی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اب ٹیسٹنگ دنیا بھر میں عام ہو چکی ہے اور یہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایک اہم ہتھیار کی مانند ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادہینم گیبراسس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹیسٹنگ کی اہمیت اس لیے برقرار رہے گی کیوں کہ شروع میں کرونا سے بچاؤ کے لیے صحت عامہ کے ملازمین، معمر اور غیر محفوظ لوگوں کو ویکسین دی جائے گی جس کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات پھر بھی بہت زیادہ رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ بجائے خود بھی وائرس سے بچاؤ کے لیے سب کچھ نہیں بلکہ یہ اس مرض کے خلاف کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
کرونا وائرس: آسٹریلیا میں آٹھ ماہ بعد غیر ملکی طلبہ کی واپسی شروع
آسٹریلیا میں غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیمی سلسلہ ایک مرتبہ پھر بحال ہونے جا رہا ہے۔ لگ بھگ آٹھ ماہ بعد خصوصی پرواز کے ذریعے پیر کو غیر ملکی طالب علم آسٹریلیا کے شہر ڈارون پہنچے ہیں۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سرحدوں کی بندش کے باعث اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تعلیمی سلسلے کو بحال کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت چارلس ڈارون یونیورسٹی کے 63 طلبہ پیر کو آسٹریلیا کے شمالی شہر ڈارون پہنچے۔
آسٹریلیا پہنچے والے طلبہ کا تعلق چین، ہانگ کانگ، جاپان، ویتنام اور انڈونیشیا سے ہے جو 14 روز تک حکومت کے قائم کردہ قرنطینہ مرکز میں رہیں گے۔
ڈارون یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں تعلیمی شعبے کی بحالی کے لیے یہ پہلا قدم ہے۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا میں تعلیم کا شعبہ ملکی معیشت میں زرِ مبادلہ میں اضافے کا سبب بننے کا چوتھا بڑا ذریعہ ہے۔
گزشتہ برس آسٹریلیا میں پانچ لاکھ غیر ملکی طلبہ کا اندراج ہوا تھا جس سے 37 بلین ڈالرز کا ملکی معیشت میں اضافہ ہوا تھا۔
رواں برس جون میں یونیورسٹیوں نے کہا تھا کہ سرحدوں کی بندش کی وجہ سے تعلیم کے شعبے کو 11 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔