پاکستان میں نومبر میں 992 اموات
پاکستان میں نومبر میں کرونا وائرس سے 992 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں وبا سے مزید 67 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 8091 ہو گئی ہے۔
نومبر میں پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔
حکومت مسلسل شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد پر زور دے رہی ہے۔ جب کہ کئی علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن بھی دوبارہ لگائے جا رہے ہیں۔
چین میں مزید 12 کیسز رپورٹ
چین میں کرونا وائرس کے مزید 12 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 92 ہزار 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز کی تعداد ایک روز قبل رپورٹ کیے گئے کیسز سے کم ہے۔
کمیشن کے مطابق سامنے آنے والے 12 نئے کیسز میں سے 8 بیرونِ ملک سے منتقل ہوئے۔ جب کہ 4 کیسز مقامی طور پر وائرس منتقل ہونے کے ہیں جو کہ منگولیا میں رپورٹ ہوئے۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں کرونا وائرس کے 92 ہزار 902 کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ وبا سے اب تک 4ہزار 743 اموات ہو چکی ہیں۔
کرونا کے خلاف اپنا مدافعتی نظام مضبوط کیسے بنائیں؟
کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں صحت مند رہنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہی پہلا اور ضروری قدم ہے۔ ماہرین کے مطابق مضبوط اعصاب اور مثبت سوچ بھی صحت مند رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے اور اس کے لیے اچھی خوراک اور مناسب نیند بہت ضروری ہے۔
کرونا وائرس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس راز سے پردہ کب اٹھے گا؟
دنیا کے کئی ممالک کے سائنس دان کرونا وائرس کا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسین تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ جب کہ محققین اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوششںیں بھی کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس بالآخر کہاں سے آیا؟ جو بلا شبہ یہ اب بھی سب سے بڑا راز ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے وائرس سے متعلق آگاہی کے لیے 10 سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم اس بارے میں تحقیق کرے گی کہ کرونا وائرس کا پہلا مریض کس طرح وبا سے متاثر ہوا۔ ٹیم اس حوالے سے ان جانوروں پر بھی تحقیق کرے گی جن کے متعلق یہ شبہ ہے کہ کرونا وائرس ان کی وجہ سے پھیلا۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وائرس کی حقیقت جاننا ضروری ہے۔ اس سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
کرونا وائرس کا پہلا کیس چین کے وسطی شہر ووہان میں ایک برس قبل سامنے آیا تھا جس کے بعد یہ وبا دنیا دوسرے ممالک تک پھیلنا شروع ہوئی اور اب تقریباََ ہر خطہ اس سے متاثر ہے۔