سوئیڈن میں ہائی اسکولز بند کرنے کا اعلان
یورپی ملک سوئیڈن میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ حکومت نے ہائی اسکولز جنوری کے پہلے ہفتے تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوئیڈن کے وزیرِ اعظم اسٹیفن لافوین نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کی شدت میں کمی لانے کے لیے ہائی اسکولوں کو بند کیا جا رہا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔
ہائی اسکولوں کی بندش کا سلسلہ چھ جنوری تک جاری رہے گا۔
سوئیڈن کے وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ان کا مقصد طلبہ کو کرسمس کے موقع پر چھٹیاں دینا نہیں بلکہ وہ پرامید ہیں کہ اس عرصے کے دوران طلبہ گھروں سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ ان کے فیصلے کے بعد کرونا کے کیسز کی شرح میں کمی واقع ہو گی۔
سوئیڈن میں حالیہ چند مہینوں کے دوران کرونا کیسز میں تیزی سے اضافے کے علاوہ اسپتالوں میں مریضوں کے داخلے اور اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
جمعرات کو سوئیڈن میں چھ ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ ملک میں اب تک سات ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں مزید 55 اموات، تین ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 55 مریض دم توڑ گئے جب کہ 3262 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 8260 ہو چکی ہے اور اب بھی 2395 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں اب تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی کل تعداد چار لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریضوں میں سے تین لاکھ 50 ہزار سے زیادہ صحت یاب ہو چکے ہیں اور ایکٹو کیسز کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں تین ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ، مزید 44 اموات
پاکستان میں مسلسل تیسرے روز کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران تین ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین ہزار 119 افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں وبا کے باعث مزید 44 اموات ہوئیں۔ جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 8 ہزار 3 سو سے تجاوز کر گئی ہے۔
پاکستان میں اب تک 3 لاکھ 52 ہزار سے زائد مریض اس وبا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اب تک 57 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 41 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔
'دنیا کرونا وائرس سے چھٹکارے کے خواب دیکھ سکتی ہے'
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد دنیا وبا سے چھٹکارے کا خواب دیکھ سکتی ہے۔
جمعے کو ٹیڈروس کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں امیر ممالک کو ویکسین حاصل کرنے کی دوڑ میں غریب اور پسماندہ ملکوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وبا سے متعلق خصوصی اجلاس سے خطاب میں ٹیڈروس کا ممالک کا نام لیے بغیر کہنا تھا کہ وبا کے دوران جن ملکوں میں سائنس، سازشی نظریات کی بھینٹ چڑھ گئی، جہاں آپس میں تقسیم پیدا کی گئی، جہاں ذاتی مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا، ان ممالک میں کرونا وائرس زیادہ مہلک ثابت ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا ویکسین کے حصول سے بنیادی مسائل جیسے غربت، بھوک، عدم مساوات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ختم نہیں ہوں گے۔ جو کہ بنیادی طور پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے۔