عالمی وبا سے دنیا بھر میں انسانی حقوق متاثر ہوئے: اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے اقوامِ عالم پر زور دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بحالی کی کوششوں میں انسانی حقوق کو پہلی ترجیح دیں تاکہ اپنے شہریوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کا حصول ممکن ہو۔
انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جمعرات کو اپنے ایک انٹرویو میں انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا نے فرنٹ لائن ورکرز، بزرگوں، معذوروں، خواتین، بچیوں اور اقلیتوں سمیت کمزور گروپوں پر غیر متناسب اثرات مرتب کیے ہیں۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ وائرس اس لیے پھلا پھولا کیوں کہ، غربت، عدم مساوات، تعصب، ہمارے قدرتی ماحول کی تباہی اور دیگر انسانی حقوق کی پامالیوں نے ہمارے معاشروں میں بے تحاشہ کمزوریاں پیدا کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لیڈروں کو یہ بہانہ ملا کہ وہ سخت سیکیورٹی اور جابر اقدامات اٹھائیں جس سے میڈیا کی آزادی اور شہری حقوق سلب ہوئے۔
برطانیہ میں کرونا ویکسینیشن کی مہم جاری
برطانیہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین مہم جاری ہے۔ یہ ویکسین امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمنی کی بائیو اینڈ ٹیک کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ برطانوی حکومت کی میڈیکل ریگولیٹری ایجنسی نے اس ویکسین کے ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت گزشتہ ہفتے دی تھی۔
سنوفی اور جی ایس کے کی ویکسین تیار نہ ہو سکی
فرانس کی دوا ساز کمپنی سنوفی اور برطانوی کمپنی جی ایس کے کی کرونا ویکسین روانہ برس آنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مذکورہ دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اُن کی تیار کردہ کرونا ویکسین آئندہ برس کے اختتام تک تیار نہیں ہو سکے گی۔
امریکہ: ایف ڈی اے کے پینل نے کرونا ویکسین کی منظوری کی سفارش کر دی
امریکہ میں غذا اور ادویات کے نگراں ادارے (ایف ڈی اے) کے ایک خصوصی پینل نے طویل مشاورت کے بعد کرونا وائرس کے انسداد کے لیے تیار کردہ ویکسین کے ہنگامی بنیاد پر استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم حتمی منظوری ایک سے دو روز میں ملنے کا امکان ہے۔
جمعرات کو لگ بھگ نو گھنٹوں تک پینل نے امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی 'بائیو اینڈ ٹیک' کی کرونا ویکسین کے استعمال اور اس کے اثرات پر مشاورت کی۔
ایف ڈی اے کے 22 رکنی پینل نے ان سوالات پر غور کیا کہ آیا ویکسین سے متعلق تمام سائنسی شواہد موجود ہیں؟ اس کے استعمال کے کیا فوائد اور کیا خطرات ہو سکتے ہیں۔