امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں تین لاکھ سے متجاوز
امریکہ میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنوری کے اختتام تک مزید ایک لاکھ امریکی اس وبا کے باعث زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق منگل تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 479 سے بڑھ گئی ہے۔
امریکہ میں کرونا کیسز کے سبب اموات کی تعداد اُسی روز تین لاکھ سے اوپر گئی ہے جس دن ملک میں کرونا ویکسین لگانے کا آغاز کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ ماہ 'تھینکس گیونگ' تہوار کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت کی وجہ سے وائرس تیزی سے پھیلا۔
ان تعطیلات کے دوران لاکھوں امریکی شہریوں نے سفر نہ کرنے کا انتباہ نظرانداز کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں ملک بھر میں سفر کیا تھا۔
جانز ہاپکنز کرونا ریسورس سینٹر کے مطابق دنیا بھر میں کرونا سے مرنے والے ہر پانچ افراد میں ایک امریکی شہری ہے۔
بھارت: کرونا ویکسین کی 60 کروڑ خوراکیں تقسیم کرنے کی تیاریاں
بھارت میں کرونا ویکسین کی تقسیم اور اسے لوگوں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی شروع ہو گئی ہے۔ اعلیٰ حکومتی مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران بھارت اپنی وسیع الیکشن مشینری کو استعمال کرتے ہوئے صحت کے اعتبار سے کمزور افراد کو کرونا ویکسین کی 60 کروڑ خوراکیں فراہم کرے گا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو کرونا وائرس کی ویکسین سے متعلق تجاویز دینے والے انتظامی گروپ کے سربراہ وی کے پال کے مطابق حکومت نے دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجۂ حرارت رکھنے والی کولڈ اسٹوریج کی سہولتوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
وی کے پال کا کہنا ہے کہ بھارت میں ویکسین کی فراہمی کے لیے چار کمپنیاں میدان میں ہیں جن میں سیرم، بھارت، زائڈس، اور اسپٹنک شامل ہیں۔ ان کے بقول ان کمپنیوں کی ویکسین کو عام استعمال ہونے والی کولڈ اسٹوریج میں رکھا جا سکتا ہے۔
'سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا' دنیا کا سب سے بڑا ویکسین بنانے والا ادارہ ہے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر آسٹرازینکا کی 'کووی شیلڈ' کی خوراکیں ذخیرہ اور تیار کر رہا ہے جب کہ بھارتی کمپنیاں 'بھارت بائیوٹیک' اور 'زائڈس' اپنی ویکسینز خود تیار کررہی ہیں۔
وی کے پال کے مطابق حکومت کو توقع ہے کہ ڈرگ ریگولیٹر سے ہنگامی بنیادوں پر ویکسین استعمال کرنے کی منظوری کا مرحلہ جلد مکمل ہو جائے گا۔
کرونا وائرس لاہور میں مسکراہٹوں کا میلہ نہ روک سکا
لاہور میں کامیڈی فیسٹیول سال میں دو بار منعقد ہوتا ہے جس میں سیکڑوں شائقین شرکت کرتے تھے۔ لیکن کرونا وائرس کے باعث اس سال بڑے اجتماعات منعقد نہیں کیے جا سکتے۔ کرونا کی عالمی وبا لاہور میں مسکراہٹوں کا یہ میلہ تو نہیں روک سکی لیکن اس بار کامیڈی فیسٹیول کچھ مختلف ضرور ہے۔ تفصیلات بتا رہی ہیں ثمن خان۔
امریکہ: کرونا ویکسین سب شہریوں تک کیسے پہنچے گی؟
امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین پہلے مرحلے میں بزرگ افراد اور طبی عملے کو دی جائے گی۔ مگر کرونا وائرس کی ویکسین عام شہری تک پہنچانے کی راہ میں کئی مشکلات حائل ہیں۔ تفصیلات بتا رہی ہیں صبا شاہ خان۔