پاکستان میں رواں ہفتے 483 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے رواں ہفتے 483 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 58 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی مجمموعی تعداد 9 ہزار 874 ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اموات کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں وبا کی دوسری لہر میں نومبر میں ہلاکتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔ جب کہ دسمبر میں بھی اضافے کا رجحان برقرار ہے۔
پاکستان میں گزشتہ ہفتے میں 483 اموات ہوئی ہیں۔ جس میں 23 دسمبر کو 111 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ جو کہ چھ میں ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
کینیڈا میں بھی وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آنا شروع
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں وزارتِ صحت کے حکام نے ہفتے کو تصدیق کی ہے کہ دو افراد میں کرونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ چند دن قبل برطانیہ میں کرونا وائرس کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی گئی تھی۔ جو کہ سائنس دانوں کے مطابق کرونا وائرس کے مقابلے میں 40 سے 70 فی صد تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
برطانیہ کے علاوہ دیگر ممالک نے، جن میں آسٹریلیا، اٹلی اور ہالینڈ شامل ہیں، بھی کرونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔
کینیڈا میں سامنے آنے والے دونوں کیسز کی سفر کرنے سے متعلق کوئی تاریخ نہیں ہے۔
اونٹاریو میں یہ کیسز سامنے آنے کے بعد ہفتے سے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔
یورپ کے 45 کروڑ افراد کے لیے دو ارب ویکسین کی خوراکیں
یورپ کے متعدد ممالک میں کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں ویکسین بڑے لگائے جانے کا عمل اتوار سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یورپ نے کرونا ویکسین فراہم کرنے والی متعدد کمپنیوں سے 45 کروڑ شہریوں کے لیے ویکسین کی دو ارب خوراکیں مہیا کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔
معاہدوں کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو آئندہ برس کے دوران ویکسین لگائی جائیں گی۔
یورپی ممالک میں دنیا کا بہترین طبی نظام موجود ہے۔ اس کے باوجود ویکسی نیشن کے لیے کچھ ممالک ریٹائرڈ ہو جانے والے طبی عملے کو بھی اس عمل میں شامل کریں گے۔ جب کہ بعض ممالک میں ویکسی نیشن کے لیے انجیکشن لگائے جانے سے متعلق قوانین میں نرمی کی جائے گی۔
کئی ممالک میں ہونے والے سروے میں ویکسین سے متعلق خدشات کی بھی نشان دہی ہوئی ہے۔ جن کو دیکھتے ہوئے 27 یورپی ممالک کے رہنما ویکسین کو معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لیے بہترین موقع قرار دے رہے ہیں۔
سڈنی میں شہری نیو ایئر نائٹ منانے کے لیے بے چین
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ جاری ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کے مکین لگ بھگ 75 لاکھ افراد کو انتظار ہے کہ حکام نیو ایئر نائٹ منانے کی اجازت دی دیں گے یا نہیں۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں کرونا وائرس کے سات کیسز سامنے آئے ہیں۔ جن میں چھ کا براہِ راست تعلق سڈنی کے ساحل سمندر سے تھا۔
خیال رہے کہ سڈنی میں لوگوں کو بدھ تک گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کی پریمیئر گلیڈیز کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ جوں جوں نیو ایئر نزدیک آ رہی ہے۔ لوگوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ ایک دو دن میں واضح ہو جائے گا کہ نیو ایئر نائٹ یا اس کے بعد آنے والے ہفتے کیسے ہوں گے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا میں 28 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ جن میں سے اکثر کیسز ریاست وکٹوریا سے رپورٹ کیے گئے۔ آسٹریلیا میں وبا سے 908 اموات رپورٹ کی گئیں۔