بھارت میں کرونا کی نئی قسم کے چھ کیس رپورٹ
بھارت میں چند روز قبل برطانیہ سے آنے والے چھ افراد میں کرونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق ان افراد کو پھیلاؤ روکنے کے لیے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے جب کہ ان افراد کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کو ٹریس کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے قریب رہنے والے افراد نے بھی خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
برطانیہ میں وائرس کی نئی قسم کی تشخیص کے بعد بھارت نے آنے اور جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم حکام کے بقول پابندی سے قبل نومبر کے آخر تک برطانیہ سے 33 ہزار مسافر بھارت پہنچے تھے۔
حکام کے بقول بھارت پہنچنے والے مسافروں میں سے 114 افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے جس کے بعد کرونا کی نئی قسم کی تشخیص کے لیے ان کے نمونوں کا معائنہ کیا گیا تھا۔
بھارت میں مجموعی طور پر وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے اور منگل کو 16 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مجموعی کیسز ایک کروڑ سے بڑھ گئے ہیں۔
کرونا کیسز میں کمی، بھارت میں زندگی معمول پر آنے لگی
کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔ جہاں مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہےجب کہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم اب کیسز میں کمی کے ساتھ ہی زندگی معمول کی جانب لوٹنے لگی ہے۔ دیکھیے یہ رپورٹ۔
پاکستان میں کرونا سے اموات 10 ہزار کے قریب
پاکستان میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 10 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 63 ہلاکتوں کے بعد مجموعی اموات کی تعداد نو ہزار 992 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 1776 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز چار لاکھ 75 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 30 ہزار 666 ٹیسٹس کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر اب تک 66 لاکھ سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان میں 2259 مریض انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔
برطانیہ: کرونا کی تیسری لہر سے بچنے کے لیے ہفتہ وار 20 لاکھ افراد کی ویکسی نیشن لازمی قرار
لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپکل میڈیسن (ایل ایس ایچ ٹی ایم) کے حالیہ مطالعے میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کو کرونا وائرس کی تیسری لہر سے بچنے کے لیے کم از کم 20 لاکھ افراد کو ہفتہ وار لازمی طور پر ویکسین دینی ہو گئی۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کرونا وائرس سے 71 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب کہ حکام نے 23 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔
حالیہ مطالعے میں واضح کیا گیا ہے کہ سب سے کڑی صورتِ حال یہ ہو گی کہ برطانیہ میں چوتھے درجے کی پابندیاں عائد کی جائیں۔ جب کہ جنوری میں اسکول بھی بند رکھے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کم از کم 20 لاکھ افراد کو ہر ہفتے ویکسین دی جائے۔ مطالعے کے مطابق یہ وہ واحد صورتِ حال ہو سکتی ہے کہ اسپتالوں میں موجود انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو) پر دباؤ اپنی بلند ترین سطح پر نہ پہنچے۔ جس طرح وبا کی پہلی لہر میں سامنا کرنا پڑا تھا۔
مطالعے میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے انسداد کی مؤثر ویکسین کے نہ ہونے، کیسز میں اضافے، اسپتالوں میں مریضوں کی آمد میں بڑھنے، انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں زیادہ مریضوں کا داخلہ اور اموات کی شرح 2021 میں گزشتہ برس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔