کرونا کی نئی قسم: کیا ویکسین اب بھی مؤثر رہے گی؟
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین آنے کے بعد اُمید پیدا ہوئی تھی کہ اس وبا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ تبدیل شدہ وائرس کتنا خطرناک ہے اور اس صورت میں کرونا ویکسین کتنی مؤثر رہے گی۔ آئیے جانتے ہیں۔۔
امریکہ میں بھی وائرس کی نئی قسم کا کیس رپورٹ
برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کا کیس امریکہ میں بھی سامنے آ گیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی ریاست کولوراڈو میں تیزی سے منتقل ہونے والے نئی قسم کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اُدھر امریکہ کے نو منتخب صدر نے ویکسین لگانے کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ویکسین لگی تو کئی امریکیوں کی سالوں بعد باری آئے گی۔
بائیڈن کے اس بیان کے بعد ریاست کولاراڈو کے گورنر جیرڈ پالیس نے منگل کو تصدیق کی کہ اُن کی ریاست میں بھی وائرس کی نئی قسم کے ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔
وائرس کی یہ نئی قسم رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں سامنے آئی تھی جس کے بعد یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
اس نوعیت کے کیسز بھارت، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور پاکستان میں بھی سامنے آ چکے ہیں۔
جیرڈ پالیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص نوجوان ہے اور اس کی ٹریول ہسٹری بھی نہیں ہے۔
برطانیہ میں ایسٹرازینیکا ویکسین کی بھی منظوری
برطانیہ دنیا بھر میں آکسفورڈ اور ایسٹرازینیکا کی بنی ویکسین کی منظوری دینے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
برطانیہ میں اس سے قبل 'فائزر اور بائیو این ٹیک' کی تیارکردہ ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم ایسٹرازینیکا ویکسین کی منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب برطانیہ میں کرونا کی نئی قسم کے انکشاف کے بعد کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
برطانوی حکومت نے پہلے ہی ایسٹرازینیکا کی ایک کروڑ خوراکوں کا آرڈر دے رکھا ہے۔ اس ویکسین کو فائزر کی ویکسین کے برعکس زیادہ کم درجۂ حرارت میں رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین کے استعمال کی منظوری متعلقہ محکموں سے مشاورت کے بعد دی گئی ہے۔
آکسفورڈ اور ایسٹرازینیکا کی تیارکردہ ویکسین کی برطانیہ میں منظوری کے بعد دنیا میں اب تک تین کمپنیوں کی تیارکردہ ویکسین کی منظوری دی جا چکی ہے جن میں فائزر اور موڈرنا کی ویکسیز بھی شامل ہیں۔
برطانوی حکام پراُمید ہیں کہ موسمِ بہار تک بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگا کر اس مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں بھی وائرس کی نئی قسم کا کیس رپورٹ
امریکہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ دوسرا کیس سامنے آ گیا ہے جس کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
نیا کیس ریاست کیلی فورنیا سے رپورٹ ہوا ہے جب کہ اس سے قبل پہلا کیس کولوراڈو میں سامنے آیا تھا۔
ماہرین کی رائے میں یہ کیس اس جانب واضح اشارہ ہے کہ امریکہ میں نئی قسم تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی سے گفتگو کے دوران اعلان کیا کہ تصدیق شدہ نئے کیس کا تعلق جنوبی کیلی فورنیا سے ہے۔
اس پر ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ ریاست کے لیے ایسا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں، اس کی پہلے سے توقع تھی۔
یہ اعلان امریکہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ پہلے کیس کے سامنے آنے سے متعلق رپورٹ کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
پہلا تصدیق شدہ کیس کولوراڈو سے رپورٹ ہوا تھا۔ متاثرہ شخص کا تعلق کولوراڈو نیشنل گارڈز سے ہے جسے علاج کی غرض سے نرسنگ ہوم بھیج دیا گیا تھا۔
محکمہ صحت کے حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دیگر گارڈ بھی کرونا وائرس کی نئی قسم سے متاثر ہوسکتے ہیں۔