امریکہ: کیلی فورنیا کے اسپتالوں کے باہر ایمبولینسز کی قطاریں
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے جنوبی علاقوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت وارڈز میں جگہ کم پڑنے لگی ہے اور ایمرجنسی وارڈ کرونا مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
کیلی فورنیا کی اورنج کاؤنٹی کے ایک اسپتال میں وبا سے متاثرہ مریضوں کی ایمبولینسوں کو انتہائی نگہداشت وارڈز میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انتظار کرنا پڑا۔
لاس اینجلس کاؤنٹی میں وبا کے سبب ہر آٹھ منٹ میں ایک ہلاکت رپورٹ کی جا رہی ہے۔ جب کہ دیگر علاقوں میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اضافی ریفریجریٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
مقامی اسپتال سے منسلک ڈاکٹر جم کینی کا کہنا ہے کہ ہر بستر پر مریض موجود ہے۔ جب کہ ہر نرس اور ڈاکٹر کرونا مریض کے علاج میں مصروف ہے۔
ڈاکٹر جم کا مزید کہنا تھا کہ ایک مریض کو داخل ہونے سے پہلے پانچ گھنٹوں تک ایمبولینس میں انتظار کرنا پڑا۔
امریکہ کی سب سے گنجان آباد ریاست کیلی فورنیا سے کرونا وائرس کے سب سے زیادہ لگ بھگ 26 لاکھ مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔ جب کہ امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق ریاست میں اب تک 29 ہزار سے زائد اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔
ویکسین کرونا کی نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد
جرمنی کی کمپنی 'بائیو این ٹیک' نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق ان کی تیار کردہ کرونا ویکسین برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد ہے۔
امریکی کمپنی 'فائزر' کے اشتراک سے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی ویکسین لگوانے والوں میں ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں۔ جو کہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف بھی کام کرتی ہیں۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کرونا کی ابتدائی قسم کے مقابلے میں 40 سے 70 فی صد زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔
بائیو این ٹیک کا فائزر اور 'یونیورسٹی آف ٹیکساس میڈیکل برانچ' کے ساتھ کی گئی تحقیق کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والے وائرس ویکسین لگوانے والے افراد کی قوت مدافعت کو متاثر نہیں کر سکتا۔
ایران امریکہ یا برطانیہ سے کرونا ویکسین درآمد نہیں کرے گا: خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں کرونا کیسز بڑھنے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کو 'ناقابلِ اعتبار' قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت پر ان ممالک سے کرونا ویکسین درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جمعے کو برطانیہ اور امریکہ کے عزائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ دونوں ملک دیگر ممالک میں کرونا وائرس پھیلانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران قابلِ اعتبار ممالک سے ویکسین حاصل کرے گا۔
ان کی طرف سے ویکسین حاصل کرنے سے متعلق تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم چین اور روس دونوں ملک ایران کے اتحادی ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر کا 1980 اور 1990 کی دہائی میں سامنے آنے والے 'بلڈ اسکینڈل' میں فرانس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ فرانس کی کرونا ویکسین بھی قابل بھروسہ نہیں ہو گی۔
پاکستان میں کرونا کیسز پانچ لاکھ سے متجاوز
پاکستان میں اتوار کو کرونا سے متاثر ہونے والے مصدقہ مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ گئی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے اب تک 10 ہزار 644 اموات ہو چکی ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں مزید 2899 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز پانچ لاکھ دو ہزار 416 ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 410 ٹیسٹس کیے گئے۔ ملک میں 2278 افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔
پاکستان میں اب تک 70 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں۔