کرونا کے خدشات: آسٹریلیا نے دورۂ جنوبی افریقہ ملتوی کر دیا
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کرونا وائرس کے خدشات کے پیشِ نظر دورۂ جنوبی افریقہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان آئندہ ماہ تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز شیڈول تھی۔ تاہم کرکٹ آسٹریلیا نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے دورۂ جنوبی افریقہ ملتوی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے قائم مقام چیف آپریٹنگ افسر نکی ہوکلی نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی رائے کے مطابق ٹیم جنوبی افریقہ نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کا ووہان کے ریسرچ سینٹر کا دورہ
چین میں موجود عالمی ادارۂ صحت کی تحقیقاتی ٹیم نے ووہان کے اس ریسرچ سینٹر کا دورہ کیا ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کرونا وائرس اس لیبارٹری سے پھیلا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ٹیم کرونا وائرس کے آغاز کی تحقیقات کے لیے کئی روز سے چین میں موجود ہے۔ بدھ کو اس ٹیم نے ووہان کے 'انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی' کا دورہ کیا ہے۔
ٹیم کے ایک رکن اور ماہرِ حیاتیات پیٹر ڈیسزیک نے اس موقع پر کہا کہ ہم یہاں موجود تمام متعلقہ اور اہم لوگوں سے ملاقات کریں گے اور ان سے وہ تمام اہم سوالات پوچھیں گے جو پوچھنا ضروری ہیں۔
البتہ صحافیوں کو اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم تک براہِ راست رسائی نہیں مل سکی۔ عالمی ادارے کی اس تحقیقاتی ٹیم چین میں جہاں بھی گئی ہے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ صحافیوں کی ان تک براہِ راست اور مکمل رسائی کم ہی ہو پاتی ہے۔ اسی لیے ان کے دوروں کی زیادہ تفصیلات بھی منظرِ عام پر نہیں آ سکی ہیں ۔
ڈبلیو ایچ او کی ٹیم تقریباً تین گھنٹے اس انسٹی ٹیوٹ میں موجود رہی اور پھر صحافیوں سے بات کیے بغیر روانہ ہو گئی۔
عالمی ادارۂ صحت کی تحقیقاتی ٹیم میں وائرسز کے ماہرین، ماہرِ وبائیات، فوڈ سیفٹی اور جانوروں کی ادویات کے ماہر بھی شامل ہیں۔ یہ ماہرین 10 مختلف ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
چین پہنچنے پر دو ہفتے قرنطینہ میں گزارنے کے بعد اس ٹیم نے گزشتہ چھ روز کے دوران اسپتالوں، تحقیقی مراکز اور ووہان میں جنگلی حیات کی اس مارکیٹ کا بھی دورہ کیا ہے جہاں سے سب سے پہلے کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے۔
پاکستان میں کرونا ویکسی نیشن کا آغاز
پاکستان کو چین کی جانب سے ملنے والی کرونا ویکسین طبی عملے کو لگانے کی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ہیلتھ ورکرز کو ویکسین دینے کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم اور گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی موجودگی میں ہیلتھ ورکرز کو کرونا ویکسین دی گئی۔ اسی طرح پاکستان کے تمام صوبوں میں وزرائے اعلیٰ نے ویکسی نیشن مہم کا آغاز کیا۔
کرونا کیسز میں تین ہفتوں سے مسلسل کمی کا رجحان
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں تین ہفتے سے مسلسل کمی ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک وبا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل جاری رکھنے میں کوئی بھی کمی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس نے کہا ہے کہ اگرچہ کچھ ممالک میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے۔ لیکن اس سے پیدا ہونے والے مرض کووڈ نائٹین کے کیسوں میں کمی ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تازہ ترین رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لوگ سماجی فاصلوں کی پابندی کریں، چہروں پر ماسک لگائیں اور صفائی کا خیال رکھیں تو اس عالمی وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔