پاکستان میں اموات کی تعداد 12 ہزار کے قریب
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ زیرِ علاج افراد کی تعداد 32 ہزار 514 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 1286 افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ 53 ہزار 128 ہو گئی ہے۔
متاثرہ افراد میں سے پانچ لاکھ آٹھ ہزار سات سو افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 11 ہزار 914 اموات ہوئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 32 ہزار 514 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں جن میں سے 1908 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
پاکستان میں چین سے عطیہ کی گئی پانچ لاکھ ویکسین ڈوزز کی مدد سے ویکسی نیشن مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں طبی عملے کو ویکسین دی جا رہی ہے۔
امریکہ میں بے روزگاری کی سطح میں معمولی کمی
رواں سال کے پہلے ماہ مہینے کے دوران امریکہ میں روزگار کے صرف 49 ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معیشت کرونا وائرس کے آغاز کے تقریباً ایک سال بعد بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔
دسمبر 2020 میں امریکہ میں دو لاکھ 27 ہزار افراد کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑا تھا جو گزشتہ سال اپریل کے بعد ایک بڑا نقصان تھا۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں ملک میں بے روزگاری کی سطح 6 اعشاریہ 7 فی صد سے گر کر 6 اعشاریہ 3 فی صد ہو گئی۔ اس کمی کی وجہ یہ ہے کہ بے روزگاری الاؤنس لینے والے کئی افراد کو ملازمتیں مل گئیں۔
امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک میں بے روزگاری الاؤنس کی درخواستوں میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم ان کی شرح اب بھی تاریخی اعتبار سے بلند ہے، کیوں کہ عالمی وبا نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
کرونا ویکسین کے حصول کی عالمی دوڑ کے نقصانات
کرونا وائرس کی ویکسین حاصل کرنے کی عالمی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ امیر ممالک ویکسین کی خوراکوں پر جھپٹ رہے ہیں۔ اس ویکسین نیشنل ازم یعنی صرف اپنے ملک کی فکر سے ایسا مقابلہ جنم لے رہا ہے جس میں کم آمدن والے ملک شاید بہت پیچھے رہ جائیں۔ مگر اس سے فائدہ امیر ممالک کو شاید بہت زیادہ نہ ہو۔
وبا کے خلاف سب سے پہلے خبردار کرنے والے چین کے ڈاکٹر کو خراج عقیدت پیش
چین کے شہر ووہان کے شہری ایک سال گزر جانے کے بعد اس ڈاکٹر کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جس نے سرکاری طور پر کرونا وائرس کی تصدیق سے قبل ہی اس وائرس کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
ووہان کے ایک اسپتال میں بطور ماہر امراض چشم کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹر لی وین لینگ شہر میں اس وقت ایک نمایاں شخصیت بن گئے تھے جب انہوں نے کرونا وبا سے متعلق آواز بلند کی تھی۔ تاہم انہیں افواہ پھیلانے کے جرم میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔
چونتیس سالہ ڈاکٹر کی کرونا وبا کے سبب سات فروری 2020 کو ہلاکت کے بعد عوام نے شدید دکھ کا اظہار تھا۔ آن لائن بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر لی کی ہلاکت کے چند دن بعد معروف معالج ڈاکٹر زونگ ننشان کی طرف سے انہیں ‘چین کا ہیرو’ قرار دیا گیا تھا۔
تاہم چین کے صدر ژی جن پنگ نے جب گزشتہ برس ستمبر میں وبا کے خلاف ڈٹے لوگوں کو ‘ہیروز’ کا مقام دیا تھا تو ڈاکٹر لی سے متعلق کچھ نہیں کہا تھا۔