'امریکہ میں مارچ کے آخر تک کرونا کی نئی قسم حاوی ہو سکتی ہے'
امریکی صدر کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی برطانوی قسم اس قدر تیزی سے پھیل رہی ہے کہ مارچ کے آخر تک امریکہ میں یہ غالب آ سکتی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے پیر کو وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس رسپانس ٹیم کی ایک ورچوئل بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی اپنی ابتدائی قسم اب بھی امریکہ میں غالب ہے۔
ان کے بقول کرونا سے متعلق ماڈلز یہ ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ میں پائی جانے والی قسم، جسے بی 117 بھی کہا جاتا ہے، تیزی سے پھیل رہی ہے اور تقریباً چھ ہفتوں کے اندر امریکہ میں کرونا کی غالب قسم ہو گی۔
ڈاکٹر فاؤچی نے بتایا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ اس وقت امریکہ میں جو ویکسین ترسیل ہو رہی ہے اس نے ظاہر کیا ہے کہ وہ B117 کے خلاف بھی کافی مؤثر ہے۔
امریکہ اور بھارت کا وبا کا مل کر مقابلہ کرنے کا اعادہ
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اور اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور بھارت کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کے خلاف جنگ میں مل کر کام کریں گے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پیر کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایک آزاد اور وسیع علاقائی تعاون کو فروغ دیں گے جس میں پانیوں ٘میں آزادانہ نقل و حرکت، علاقائی سالمیت اور ایک مضبوط اتحاد شامل ہے۔
دونوں رہنماؤں نے عالمی دہشت گردی کے خلاف مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
سندھ میں سیاسی بنیادوں پر کرونا ویکسی نیشن کا الزام
پاکستان کے صوبے سندھ میں ہفتے کو فرنٹ لائن ورکر نہ ہونے کے باوجود بعض افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائے جانے پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سابق گورنر سندھ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی بیٹی اور داماد نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر کے بتایا کہ وہ وبا سے بچاؤ کی پہلی ڈوز لگوا چکے ہیں۔
تصاویر سامنے آنے کے بعد اس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب تنقید کی گئی اور صوبۂ سندھ میں ابتداً ہیلتھ ورکرز کے بجائے دیگر افراد کو ویکسین لگانے کو بدانتظامی اور وی وی آئی پی کلچر سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان دونوں افراد کو چھ فروری کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں قائم ایک سینٹر میں ویکسین لگائی گئی۔ یاد رہے کہ صوبے بھر میں ایسے 11 سینٹرز قائم ہیں جن میں سے نو صوبائی دارالحکومت کراچی اور ایک شہید بے نظیر آباد اور دوسرا حیدرآباد میں قائم کیا گیا ہے۔ جہاں صوبے کو ملنے والی 83 ہزار ویکسینز دستیاب ہیں۔
اگرچہ دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی ویکسین کے لیے ہیلتھ کیئر کے عملے کو رجسٹریشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد ایس ایم ایس وصول ہونے پر ہی وہ متعلقہ سینٹر میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ محمد زبیر کے اہلِ خانہ نے کس طرح ویکسین لگوانے کے لیے خود کو رجسٹرڈ کرایا یا کسی اور کی رجسٹریشن پر خود کو ویکسین لگوانے میں کامیاب ہوئے۔
ادھر صوبائی محکمۂ صحت کی ترجمان میران یوسف نے بتایا کہ غیر متعلقہ افراد کو ویکسین لگانے کے الزام میں گریڈ 18 کی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انیلا قریشی کو معطل کردیا ہے۔
کین سائنو کی ایک ڈوز والی ویکسین 74 فی صد مؤثر
وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ چین کی کمپنی 'کین سائنو بائیو' کی ایک ڈوز والی ویکسین کے پاکستان میں ہونے والے ٹرائلز کے اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ یہ 74.8 فی صد مؤثر ہے۔ جب کہ شدید متاثرہ مریضوں کے لیے یہ 100 فی صد کار آمد ہے۔
ٹوئٹر پر ایک بیان میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیپینڈنٹ ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی (آئی ڈی ایم سی) نے اس ویکسین کے کسی مضر یا منفی اثرات کے حوالے سے بھی رپورٹ نہیں کیا۔
ان کے مطابق ان ٹرائلز میں 30 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔