کرونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ویکسین کی تیاری
برطانیہ میں سائنس دان ایک ایسی عالمگیر ویکسین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کرونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ثابت ہو۔ کامیاب تجربے کے بعد ایسی ویکسین اب سے ایک سال کے بعد استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔
اخبار 'دی ٹیلی گراف' کے مطابق نوٹنگھم یونیورسٹی میں مصروف عمل سائنس دان ایسی ویکسین تیار کرنا چاہتے ہیں جو کرونا وائرس کے بیرونی نوکیلے حصے کی بجائے اس کے اندر کے درمیانی حصے کو ٹارگٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اب تک کی بنائے جانے والی ویکسینز وائرس کے نوکیلے پروٹین کے حصوں کو ناکارہ کرتی ہیں۔
ایسی ویکسین بنانے سے جو وائرس کے اندرونی مرکزی حصے کو ٹارگٹ کرے موجودہ ویکسینز کو بدلتی ہوئی اقسام سے نمٹنے کے لیے انہیں بار بار بہتر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
موڈرنا کی امریکہ میں ویکسین کی مزید کھیپ قبل از وقت فراہم کرنے کا اعلان
امریکہ کی دوا ساز کمپنی 'موڈرنا' نے کہا ہے کہ وہ ویکسین کی فراہمی کے لیے جون کی طے شدہ تاریخ کے بجائے مئی کے آخر تک 10 کروڑ خوراکوں کی دوسری کھیپ امریکہ کو فراہم کرے گی۔
کمپنی کے مطابق تیسری کھیپ کی ترسیل کی تاریخ بھی ستمبر کے آخر کے بجائے اب جولائی کے آخر میں طے کی گئی ہے۔
موڈرنا نے کہا ہے کہ ترسیل کی تاریخوں میں تبدیلی کی وجہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کے عزم سے وابستگی ہے۔
اب تک امریکہ کو چار کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ خوراکیں فراہم کی جا چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق موڈرنا کرونا ویکسین کی تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ خوراکیں تیار کی جا چکی ہیں اور جانچ کے مختلف مراحل پر ہیں۔
متعدی امراض کے کنٹرول کے مرکز کے مطابق امریکہ میں مجموعی طور پر ویکسین کی سات کروڑ خوراکیں تقسیم کی گئی ہیں۔ جب کہ پانچ کروڑ 20 لاکھ خوراکیں لگا دی گئی ہیں۔
موڈرنا کے مطابق پیداوار اور فراہمی کے آخری مراحل میں اگرچہ قدرے تاخیر کا سامنا ہے لیکن ترسیل کے اہداف کو متاثر نہیں ہونے چاہیے۔
توقع ہے کہ فروری اور مارچ میں اوسطاََ تین کروڑ 50 لاکھ تک خوراکیں ماہانہ مہیا کی جائیں گی اور اپریل سے لے کر جولائی کے آخر تک پانچ کروڑ تک خوراکیں دی جائیں گی۔
امریکہ میں حکومت سے معاہدہ کیا گیا ہے کہ وہ ہر شخص کے لیے دو خوراکوں کے حساب سے موڈرنا ویکسین کی کل 30 کروڑ خوراکیں خریدے گی۔
دنیا بھر میں کیسز میں مسلسل پانچویں ہفتے کیسز میں کمی
ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کی نئی اقسام نے محققین کے لیے مزید مؤثر ویکسین بنانے کا چیلنج لا کھڑا کیا ہے۔ دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل پانچویں ہفتے کمی آئی ہے۔
صحتِ عامہ کے ماہرین کے لیے وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں دنیا میں سب سے زیاد دو متاثرہ ممالک امریکہ اور بھارت میں بھی نئے کیسز میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بھی نئے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتے پچھلے پانچ ماہ میں اس متعدی مرض کے کیسز کم ترین سطح پر ریکارڈ کیے گئے۔
کرونا ویکسین لگانے کے بعد سفر کرنا کتنا محفوظ ہے؟
وائس آف امریکہ کے مستقل سلسلے 'لائف 360' صحت مند زندگی گزارنے کے بارے میں معلومات پر مشتمل ہے۔ آج کا موضوع کرونا وائرس ہے۔ صبا شاہ خان جائزہ لے رہی ہیں کہ کیا دو فیس ماسک پہننا ایک سے بہتر ہے اور کیا کرونا ویکسین لینے کے بعد سفر پر نکلنا محفوظ ہے؟