'جرمنی میں وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے'
جرمنی کے وزیرِ صحت جینس سپن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی برطانیہ میں سامنے آنے والی قسم جرمنی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ دو ہفتے پہلے کی شرح کے مقابلے میں اس کے کیسز چار گنا زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔
برلن میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جینس سپن نے کہا کہ وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کی شرح نشان دہی کرتی ہے کہ ہر ہفتے اس کے کیسز کی شرح تقریباََ دگنی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جلد ہی یہ قسم جرمنی میں غالب آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جب ملک میں پابندیوں کو کم کرنا شروع کیا جائے گا تو جرمنی میں صحت کے حکام کو وائرس کی برطانوی قسم کے حوالے سے غیر معمولی طور پر محتاط رہنا ہوگا۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں جرمنی میں ویکسین کے پروگرام میں نمایاں طور پر تیزی آئے گی۔ ویکسین فراہم کرنے والے مراکز کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آئندہ ہفتے کے آخر تک انہیں ویکسین کی ایک کروڑ اضافی خوراکیں فراہم کرنی ہیں۔
انہوں نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر ویکسین لینے سے گریزاں افراد کو بھی یقین دہانی کرائی کہ جانچ کے سخت عمل کے بعد یورپی یونین کی طرف سے منظور کی جانے والی ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔
پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 3.6 فی صد ہو گئی
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی کی نشان دہی کے لیے ہونے والے ٹیسٹس کی شرح 3.6 فی صد ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے مزید 34 ہزار 754 ٹیسٹ کیے گئے۔ جن میں نشان دہی ہوئی کہ وبا سے مزید 1245 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
یوں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 3.6 فی صد بتائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وبا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں 24 ہزار 139 افراد زیرِ علاج ہیں۔
لاہور کی ادبی و ثقافتی محفلیں کرونا وائرس کی نذر
پاکستان کے شہر لاہور میں ادبی و ثقافتی محفلیں باقاعدگی سے منعقد ہوتی تھیں لیکن کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث یہ سلسلہ رک سا گیا ہے۔ فیض میلہ، لاہور لٹریری فیسٹیول اور ان جیسے کئی بڑے ایونٹس یا تو منسوخ ہو رہے ہیں یا پھر ان کا انعقاد غیر یقینی کا شکار ہے۔
کرونا وائرس کے سبب امریکیوں کی اوسط عمر میں ایک سال کی ریکارڈ کمی
امریکہ کے صحت سے متعلق ادارے یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے جمعرات کے روز اعداد و شمار شائع کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 2020 کے نصف اول کے دوران امریکی شہریوں کی اوسط عمر ایک سال گھٹ گئی ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی شہریوں کی اوسط عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔
جنوری تا جون 2020 کے سی ڈی سی کے نیشنل سینٹر فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر اقلیتیں ہوئیں۔ سیاہ فام امریکیوں کی اوسط عمر میں تین برس کی کمی دیکھنے میں آئی جب کہ ہسپانوی امریکیوں کی اوسط عمر میں دو برس کی کمی ہوئی۔
طبی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار کرونا وائرس کی عالمی وبا سے ہونے والے نقصان کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اعداد و شمار منشیات کے استعمال، قلبی امراض اور وبا کے پھیلاؤ سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کی اموات کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
سی ڈی سی کا ادارہ اوسط عمر کا تعین آج پیدا ہونے والے بچے کی اوسط عمر سے کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2020 کے نصف اول کے بعد امریکیوں کی اوسط عمر 77 اعشاریہ 8 برس تھی۔ یہ اوسط 2019 میں 78 اعشاریہ 8 برس تھی۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں مردوں کی اوسط عمر 75 اعشاریہ ایک برس جب کہ خواتین کی اوسط عمر 80 اعشاریہ 5 برس ہے۔