سوئیڈن نے ایسٹرازینیکا کی ویکسین کا استعمال روک دیا
یورپ کے مختلف ملکوں کی طرح سوئیڈن نے بھی برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرازینیکا کی تیار کردہ کرونا ویکسن کا استعمال روک دیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سوئیڈن کے صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور پر انسدادِ کرونا کے خلاف ایسٹرازینیکا کی ویکسین کا استعمال روک رہے ہیں۔
ویکسین کے بعد اس کے مبینہ ری ایکشن کی خبروں کے بعد کئی یورپی ملکوں نے مذکورہ ویکسین کی مہم روک دی تھی۔ جرمنی، فرانس اور اٹلی نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین کا استعمال نہیں کریں گے۔
فرانس میں کرونا کی نئی قسم دریافت
فرانس کی وزارتِ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آئی ہے۔
بیان کے مطابق فرانس کے علاقے برٹنی میں دریافت ہونے والی کرونا کی نئی قسم ابتدائی تحقیق کے مطابق کم خطرناک اور اس کے پھیلنے کی صلاحیت بھی کم ہے۔
فرانسیسی وزارتِ صحت کا مزید بتانا ہے کہ کرونا کی نئی قسم کا پہلا کیس لینین کے ایک اسپتال میں داخل مریض میں تشخیص ہوا تھا۔
'وبا کا خاتمہ ابھی دور ہے اور لوگوں کے لیے محتاط رہنا ضروری ہے'
امریکہ میں امراض کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) کی ڈائریکٹر نے حالیہ ایام میں امریکہ میں سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کا خاتمہ ابھی دور ہے اور لوگوں کے لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس میں وبا کی رسپانس ٹیم کے ایک حصے کے طور پر ورچوئل بریفنگ کے دوران سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل والنسکی نے کہا کہ گزشتہ جمعے کو 13 لاکھ سے زائد افراد نے ہوائی سفر کیا تھا جو ایک سال قبل وبا کے آغاز کے بعد سے ایک دن میں سفر کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
روشیل والنسکی نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر میں مختلف مقامات پر لوگوں کو بغیر ماسک کے موسمِ بہار سے لطف اندوز ہونے والوں کی کوریج دیکھی۔ جب کہ اس وقت بھی ملک میں ایک دن میں کرونا وائرس کے 50 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے توجہ دلائی کہ امریکہ میں یہ صورتِ حال ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہی ہے جب بہت سے یورپی ممالک میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالاں کہ اس سے پہلے ان ممالک میں نئے کیسز میں کمی دیکھی گئی تھی اور عوام نے وائرس کے خاتمے کے ضروری قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔
والنسکی کا کہنا تھا کہ عوام یورپ کے تجربے سے سبق سیکھ کر تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں اور ویکسین لینے کے لیے تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تو بہتری کی صورت کا آغاز ہوا ہے۔ اعداد و شمار درست سمت کی طرف گامزن ہیں لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم سب کو اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا ہے۔
کرونا ویکسین کے بچوں پر تجربات، چھ ماہ سے 12 سال تک کے بچے شامل
کرونا وائرس کی ویکسین بنانے والی کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چھ ماہ سے 12 سال تک کی عمر کے بچوں پر ویکسین کے تجربات شروع کیے ہیں۔
امریکہ کے اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کے مطابق موڈرنا کی خاتون ترجمان کولین ہسی کا کہنا ہے کہ ویکسین کے اثرات کے مطالعے کے لیے امریکہ اور کینیڈا میں چھ ہزار سات سو سے زائد صحت مند بچوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔
ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان 6750 بچوں میں سے کتنے بچوں کو ویکسین کی پہلی ڈوز دی جا چکی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'این پی آر' کی رپورٹ کے مطابق موڈرنا کی ویکسین ابھی 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو دی جا رہی ہے۔ جن بچوں کو ویکسین دی جائے گی محققین ان کا جائزہ لیں گے کہ ویکسین کے ان پر ویکسین کے کیا اثرات رہے ہیں۔ اور ان بچوں کو ویکسین کی اثر پذیری میں مشکلات کا سامنا تو نہیں کرنا پڑ رہا۔
رپورٹ کے مطابق محققین ویکسین کے حوالے سے یہ بھی جائزہ لیں گے کہ یہ بچوں کو کرونا وائرس کی نئی اقسام سے محفوظ رکھنے میں کس قدر مدد گار ثابت ہو گی۔