کرونا کے ماخذ کی تلاش کا دائرہ جنوب مشرقی ایشیا تک وسیع
کرونا وائرس کا سراغ لگانے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وائرس کے ماخذ کی تلاش پر جاری تحقیق کا دائرہ کار چین سے وسیع کر کے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلانا ہو گا۔
وائس آف امریکہ کے ژومبر پیٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وائرس کے پھوٹنے کی جگہ کی نشاندہی کے لیے کی جانے والی تحقیق کا مقصد آئندہ ایسی عالمی وبا کو پھوٹنے سے روکنا ہے۔
کووڈ 19 وبا کے پھوٹنے کے بعد سے اب تک سائنس دانوں نے اس مرض کا باعث بننے والے وائرس کے ماخذ کی تلاش میں اپنی توجہ چین کے شہر ووہان پر مرکوز کر رکھی ہے۔
کرونا وائرس سے 96 فی صد تک جینز کی مماثلت رکھنے والا ایک وائرس چین کے صوبے یونان میں گزشتہ برس دریافت کیا گیا تھا۔
پاکستان کو کرونا وائرس کی 'خطرناک' اقسام کا سامنا
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کو پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک میں کرونا وائرس کی نئی اقسام بھی داخل ہو چکی ہیں۔ بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟ جانتے ہیں نذر السلام سے
جرمنی: لاک ڈاؤن میں 18 اپریل تک توسیع
جرمنی نے لاک ڈاؤن میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے پابندیوں میں نئی سختیاں شامل کر لی ہیں۔
جرمن چانسلر انگلا مرکل نے منگل کو 16 ریاستوں کے گورنروں سے بذریعہ ویڈیو کال بات کرتے ہوئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر بات چیت کی۔ بعدازاں جرمن چانسلر نے اعلان کیا کہ کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن 18 اپریل تک برقرار رہے گا۔
جرمنی میں عالمی وبا کی روک تھام کے سلسلے میں عائد کردہ لاک ڈاؤن کی مدت 28 مارچ کو مکمل ہونا تھی۔ لیکن حکومت نے نئی پابندیوں میں ایسٹر کے موقع پر بڑے اجتماعات پر پابندیاں بھی شامل کر لی ہیں۔
انگلا مرکل نے برلن میں صحافیوں سے گفتگو بھی کی اور کہا کہ ہمیں ایک نئی وبا کا سامنا ہے جو کرونا وائرس کی طرح کی ہے لیکن اس کے نقصانات اموات اور بڑھتے کیسز کی صورت میں کئی گنا زیادہ ہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں پائی جانے والی کرونا کی قسم جرمنی میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے یومیہ کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
'کروناویک ویکسین بچوں کے لیے بھی مؤثر ہے'
چین کی دوا ساز کمپنی سائنوویک نے کہا ہے کہ اس کی تیاری کردہ کرونا ویکسین 'کروناویک' محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ تین سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مؤثر ہے۔
کمپنی کے میڈیکل ڈائریکٹر گینگ زینگ کے مطابق ویکسین کے کلینیکل ٹرائل 550 سے زائد افراد پر کیے گئے جس کے بعد نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ بچوں کے لیے بھی اسی طرح مفید ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرائل کے دوران دو بچوں میں تیز بخار کی شکایت نوٹ کی گئی جن کی عمریں تین اور چھ برس تھی جب کہ دیگر رضاکار بچوں میں معمول کی علامات دیکھی گئیں۔
مذکورہ ویکسین کو چین میں بالغوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ بچوں کو ویکسین دینے سے متعلق مزید کلینیکل ٹرائل کی ضرورت تھی۔
چین سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں سائنوویک ویکسین کی سات کروڑ سے زائڈ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔