امریکہ: جو ویکسین لگوائے گا اسے مفت ڈونٹ ملے گا
امریکہ میں ڈونٹ بنانے والی ایک کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ویکسین لگوانے والوں کو مفت میں ڈونٹ دے گی۔
پیر کے روز سے ڈونٹ بنانے والے امریکی کاروبار نے ان لوگوں کو مفت ڈونٹ دینے کا اعلان کیا ہے، جو اپنا کرونا وائرس کی ویکسین کا کارڈ دکھائیں گے۔
ڈونٹ اسٹور کے ایک 32 سالہ کسٹمر نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جیسے ہی یہ خبر سنی، وہ سیدھے ڈونٹ لینے آ پہنچے۔
ڈونٹ کمپنی کرسپی کریم کے مارکیٹنگ آفیسر ڈیو سکینا کا کہنا تھا کہ یہ فری ڈونٹ 2022 تک روزانہ ان لوگوں کو ملیں گے، جنہوں نے ویکسین لگوائی ہے۔ اس طرح جو لوگ ابھی تک ویکسین نہیں لگوا سکے، انہیں بھی جلد یا بدیر ان کا مفت ڈونٹ مل جائے گا۔
پاکستان نے چین سے کرونا ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں خرید لیں
پاکستان نے چین سے کرونا وائرس ویکسین کی 10 لاکھ سے زیادہ خوراکیں خرید لی ہیں۔
عالمی وبا کی روک تھام سے متعلق پاکستان کی کارروائیوں کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین چین کی کمپنیوں سائنو فارم اور کین سائینو بائیلوجکس سے خریدی گئی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کا انحصار صرف عطیات میں دی گئی ویکسین پر تھا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ویکسین کی یہ خوراکیں رواں ماہ ہی پاکستان کو موصول ہو جائیں گی جب کہ انہی کمپنیوں سے مزید ستر لاکھ خوراکوں کی خریداری کے لیے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
اسد عمر کے مطابق پاکستان نے سائنو فارم اور کین سائنو ویکسین کی 10 لاکھ 60 ہزار خوراکیں چین سے خریدی ہیں، جو مارچ کے اواخر تک پاکستان پہنچ جائیں گی۔
بھارت میں 47 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 275 اموات 47 ہزار 262 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
بھارت کو کرونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں کاروبارِ زندگی محدود کرتے ہوئے دیگر پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک کروڑ 17 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے ایک کروڑ 12 لاکھ سے زیادہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق بھارت میں ایکٹو کیسز کی تعداد تین لاکھ 68 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ عالمی وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار 441 ہے۔
صوبائی حکومتیں مشاورت سے اسکولوں کی بندش کا فیصلہ کریں گی: شفقت محمود
پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک کے مخصوص اضلاع میں 11 اپریل تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ صوبے اسکول بند کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔
اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا ورچوئل اجلاس ہوا جس میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم اور وزرائے صحت نے شرکت کی۔
بعدازاں پریس بریفنگ کے دوران شفقت محمود نے بتایا کہ صوبۂ پنجاب کے چند اضلاع اور خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جب کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی کچھ اسی طرح کی صورتِ حال ہے۔
ان کے بقول سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بیماری کی شدت کم ہے۔ اس لیے متعلقہ حکومتیں اپنی وزارتِ صحت سے مشاورت کے بعد صوبے میں اسکولوں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گی۔