نوے فی صد بالغ افراد آئندہ ماہ کرونا ویکسی نیشن کے اہل ہوں گے: صدر بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے نو بالغ افراد آئندہ ماہ سے کرونا وائرس کی ویکسین لینے کے اہل ہوں گے۔
امریکہ کے صدر نے پیر کو یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے کہ جب ملک میں ایک بار پھر کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جو بائیڈن کا مزيد کہنا تھا کہ اس وقت وبا کے ساتھ ہماری زندگی اور موت کی دوڑ جاری ہے۔ کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور کیسز میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وبا کی نئی اقسام پھیل رہی ہیں اور گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران احتیاط نہ برتنے سے آنے والے ہفتوں میں نئے کیسز سامنے آنے کا خدشہ ہے۔
کرونا بحران میں ورچوئل ریئلٹی نے گھر بیٹھے دنیا کی سیر ممکن بنا دی
عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں سخت لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باعث گھر بیٹھے دنیا کی سیر کرنے کا خیال ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے حقیقت میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی نئی ایپس اور بہتر ہارڈوئیر کی مدد سے ورچوئل ریئلٹی عام افراد کی دسترس میں ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئی بھی شخص اب اپنے گھر بیٹھے دنیا کی حسین وادیوں، گھنے جنگلات میں سفر کر سکتا ہے یا کسی ریسنگ کار میں بیٹھ کر سڑکوں کی سیر کا لطف لے سکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق اگرچہ ابھی اس ٹیکنالوجی کے پاس ڈیٹا کی کمی ہے مگر اس پر کام کرنے والے ڈیویلپرز یا سافٹ وئیر انجنئیرز عالمی وبا کے دوران اس میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
سیاہ فام امریکی کرونا ویکسین پر کیوں عدم اعتماد کا شکار ہیں؟
امریکہ میں طبی ماہرین کی بار ہا يقين دہانی کے باوجود کئی سياہ فام امريکی اب بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ويکسين لگوانے ميں یا تو احتیاط کر رہے ہیں یا وہ اسے لگوانا ہی نہیں چاہتے۔ ايسا کيوں ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
امریکہ سمیت 14 ممالک کو کرونا کے ماخذ سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی تحقیقات پر تحفظات
امریکہ اور دیگر 13 ملکوں نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کرونا وبا کے ماخذ سے متعلق جاری کردہ حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دیگر 13 ملکوں کے حکام کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ان ملکوں نے مشترکہ بیان میں ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں عالمی ماہرین کی رائے بہت تاخیر سے سامنے آئی ہے جب کہ ماہرین کو تحقیقات کے لیے ملنے والی مکمل رسائی، اصل ڈیٹا اور سیمپلز پر تحفظات ہیں۔