ویکسی نیشن کرانے والے امریکی سیاح گرمیوں میں یورپ آ سکیں گے
یورپین کمیشن کی سربراہ ارسلا واندر لین نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ویکسین لگوانے والے امریکی سیاحوں کو یورپ آنے کی اجازت ہو گی۔
اتوار کو 'نیو یارک ٹائمز' کو دیے گئے انٹرویو میں ارسلا واندر لین نے سیاحوں کو اجازت دینے کے کسی ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ موسمِ گرما میں اس حوالے سے نئے قوانین بنائے جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کو وہ ویکسین لگائی جا رہی ہے جس کی منظوری یورپین میڈیسن ایجنسی نے بھی دی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی سیاحوں کو یورپ آنے کی اجازت دینے کا اطلاق تمام 27 رُکن ممالک پر ہو گا۔
ارسلا واندر لین کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ویکسی نیشن مہم منظم انداز میں جاری ہے اور جون تک وہاں 70 فی صد افراد کو ویکسین لگا دی جائے گی۔
بھارتی کشمیر میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نئی پابندیاں
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام نے سری نگر کے پبلک پارکس بھی بند کر دیے ہیں۔
اتوار کو بھارتی کشمیر میں کرونا کے 2381 کیس رپورٹ ہوئے تھے جو وبا کے آغاز سے اب تک کی سب سے زیادہ یومیہ تعداد ہے۔
مجموعی طور پر اب تک بھارتی کشمیر میں ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد لوگ کرونا وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
انتظامیہ نے وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 15 مئی تک تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے ہیں۔ کرونا کی تشویش ناک صورتِ حال کی وجہ سے بھارتی کشمیر میں سیاحوں کی آمدورفت بھی تعطل کا شکار ہے۔
فوج کے جوان کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے ملک بھر میں تعینات: ترجمان پاکستان فوج
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتحار نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے فوج کے جوان ملک بھر میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتحار نے کہا کہ فوجی جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور پیر کی صبح چھ بجے کے بعد سے فوجی جوانوں نے اپنی ڈیوٹی شروع کر دی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کرونا کی تیسری لہر بہت خوفناک ہے۔ لہذٰا عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
میجر جنرل بابر افتحار کا کہنا تھا کہ مسلح افواج اس تعیناتی کے عوض انٹرنل سیکیورٹی الاؤنس بھی وصول نہیں کرے گی۔
پاکستان میں کرونا وبا کی شدت کے باوجود اے لیولز کے امتحانات کیوں ہو رہے ہیں؟
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت اور تعلیمی اداروں کی بندش کے باوجود اے لیولز کے امتحانات شروع ہو گئے ہیں جس پر طلبہ اور اُن کے والدین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کرونا وبا کے دوران اسکولوں کی بندش کے باعث طلبہ کے ہر دلعزیز سمجھے جانے والے وزیرِ تعلیم شفقت محمود کو اس معاملے میں اب تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا مؤقف ہے کہ یہ امتحانات ہر صورت لیے جائیں گے۔
شفقت محمود نے چند روز قبل اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ رواں سال کیمبرج سسٹم کے تحت اے اور او لیول کے امتحانات معطل کیے جائیں گے اور نہ ہی اُنہیں بغیر امتحان کے اگلی جماعتوں میں بیٹھنے کی اجازت ہو گی۔ شفقت محمود کے بیان کے بعد طلبہ اور اُن کے والدین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔