فرانس: پاکستان سمیت مزید سات ممالک کے مسافروں کے لیے 10 روزہ قرنطینہ لازمی قرار
یورپ کے ملک فرانس نے کرونا وبا کے پیشِ نظر مزید سات ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے 10 روز کا قرنطینہ لازمی قرار دے دیا ہے۔
ان سات ممالک میں پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں جہاں سے آنے والے مسافروں پر اس پابندی کا اطلاق ہفتے سے ہو گا۔
خیال رہے کہ بھارت کو اس فہرست میں گزشتہ ماہ ہی شامل کیا گیا تھا۔ جب کہ کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد برازیل سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ چلی، جنوبی افریقہ اور ارجنٹائن سے آنے والے مسافروں پر یہ پابندی لاگو ہے۔
ان ممالک سے آنے والے مسافروں کو پہنچنے کے بعد اس چیز کا ثبوت دینا ہو گا کہ ان کے پاس قرنطینہ کے لیے جگہ موجود ہے۔ جہاں سے وہ دن میں ایک بار دو گھنٹوں کے لیے باہر نکل سکتے ہیں۔
برطانوی ماہرین نے کرونا کی بھارتی قسم کو تشویشناک قرار دے دیا
برطانیہ میں صحت کے ادارے ‘پی ایچ ای’ کے حکام نے بھارت میں سامنے آنے والے کرونا وائرس کی قسم کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وائرس زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔
پی ایچ ای نے بھارت میں سامنے آنے والی وائرس کی تین اقسام میں سے ‘بی 16172’ کو تشویش ناک قرار دیا ہے جو کہ برطانیہ میں پھیل رہا ہے۔
پی ایچ ای کے مطابق گزشتہ ہفتے مذکورہ وائرس کے کیسز 202 سے 520 تک پہنچ گئے ہیں۔
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے احتیاط سے نمٹنا ہو گا۔
یہ کیسز برطانوی دارالحکومت لندن اور شمال مغربی ٹاؤن بولٹن میں سامنے آئے ہیں جن میں سے نصف افراد مسافروں سے رابطے میں تھے۔
پی ایچ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ یہ وائرس بنیادی کرونا وائرس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ یہ وائرس برطانیہ میں کرونا وبا کی دوسری لہر کی وجہ بنے والے ‘کینٹ’ وائرس کی رفتار سے پھیل سکتا ہے۔
کیا کرونا ویکسین پر بڑے ممالک کی اجارہ داری ختم ہو سکے گی؟
امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی برادری اور اپنی پارٹی کی جانب سے دباؤ کے بعد کرونا وائرس کی ویکسین کو پیٹنٹ سے مستثنی کرنے کی حمایت کی ہے جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ مختلف ممالک کرونا ویکسین خود بنا کر اپنی ضرورت پوری کر سکیں گے۔ تفصیلات جانتے ہیں ارم عباسی سے۔
ملک بھر میں بازار بند، بعض شہروں میں پابندیوں کی خلاف ورزی
کرونا وبا کے پیش نظر سندھ کے علاوہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی (این سی او سی) کی ہدایت پر مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے جب کہ سندھ میں ہفتے کو خریداری کا آخری دن ہے اور شام سے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں آئندہ ہفتے 13 یا 14 مئی کو عیدالفطر منائی جائے گی۔ وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 10 سے 15 مئی تک چھٹیوں کا اعلان کیا گیا۔ لیکن عملی طور پر چھٹیوں کا آغاز ہفتہ آٹھ مئی سے ہی ہو گیا ہے اور حکومت نے بھی آٹھ سے 16 مئی تک ملک میں مکمل لاک ڈاون نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان چھٹیوں کے دوران بینک بھی بند کر دیے جائیں گے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کی ملک بھر میں برانچیں آٹھ مئی کو صبح نو سے دوپہر دو بجے تک بغیر کسی وقفے کے کھلی رہیں گی جس کے بعد بینک بھی 8 روز کے لیے بند ہو جائیں گے۔
پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف شہروں میں مثبت کیسز کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں چار ہزار 298 افراد وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ 140 اموات رپورٹ ہوئیں۔
این سی او سی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا مقصد پاکستان کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گھروں تک محدود کرنا ہے تاکہ کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بڑھتے کیسز کی تعداد پر قابو پایا جا سکے۔