پاکستانی مسافروں کے امارات داخلے پر پابندی
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
پیر کو اماراتی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق مذکورہ پابندی پر عمل درآمد بدھ سے ہو گا اماراتی شہریوں، سفارتی عملے، سرکاری وفود کو اس پابندی سے استثنٰی حاصل ہو گا۔
البتہ، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال جانے والی ٹرانزٹ فلائٹس کو متحدہ امارات اُترنے کی اجازت ہو گی جب کہ متحدہ عرب امارات سے بھی ان ممالک کے مسافروں کو اپنے اپنے ممالک جانے کے لیے پروازیں جاری رہیں گی۔
کرونا کی ایسی اقسام بھی سامنے آ سکتی ہیں جن کے خلاف ویکسین مؤثر نہیں ہو گی: سائنس دان
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا کی بعض ایسی اقسام بھی سامنے آ سکتی ہیں جن کے خلاف ویکسین مؤثر نہیں ہو گی۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویکسین لگوانے کے بعد بھی کچھ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس دوران وائرس کی سامنے آنے والی نئی اقسام کے جائزے کی بھی ضرورت ہے۔
امریکہ کے جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کی سینئر اسکالر جی جی گرونوَل کا کہنا ہے کہ "اس دنیا میں کوئی بھی چیز 100 فی صد نہیں ہے۔"
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کرونا وائرس کے مزید ویرینٹ (قسم) سامنے آ سکتے ہیں جس کے پھیلاؤ پر ویکسین کے ذریعے قابو نہیں پایا جا سکے گا، لہذٰا اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا میں کرونا سے اب تک 44 پولیس اہلکار ہلاک
خیبر پختونخوا میں عام لوگوں اور محکمہ صحت سے منسلک ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے میں شامل افراد کے علاوہ پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہے۔
محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک 1500 سو سے زائد پولیس اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جب کہ اس وبا کی لپیٹ میں آنے والے 44 اہلکار اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعداد خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے جہاں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 13 اہلکاروں کی موت ہوچکی ہے۔
متاثر ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق ضلع ہزارہ سے ہے جہاں 434 اہلکاروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی اور اب تک 10 اہلکار انتقال کر چکے ہیں۔
بھارت میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومت پر لاک ڈاؤن کا دباؤ
بھارت میں کرونا وائرس انفیکشنز اور اموات کی تعداد بلند سطح پر برقرار ہے جس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت پر اس دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے سب سے گنجان آباد ملک میں لاک ڈاون نافذ کریں۔
وزارتِ صحت نے پیر کو تین لاکھ 66 ہزار ایک سو 61 نئے کیسز اور تین ہزار سات سو 54 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جس کے بعد ملک میں کل کیسز کی تعداد دو کروڑ 26 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ اور اموات کی تعدد دو لاکھ چھیالیس ہزار ایک سو سولہ تک پہنچ گئی ہے، جب کہ اسپتالوں میں آکسیجن اور بستر کم پڑ چکے ہیں اور شمشان گھاٹ بھر گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں جتنا کہ سرکاری طور پر رپورٹ کئے گئے ہیں۔
بہت سی ریاستوں نے گزشتہ ماہ سخت لاک ڈاون نافذ کر دیا تھا، جب کہ کچھ نے لوگوں کی نقل و حرکت پر بعض پابندیاں لگا دی ہیں، جب کہ سنیما گھر، ریستوران، بار اور شاپنگ مالز بند کر دیے ہیں۔
کووڈ-19 کے تیزی سے پھیلاؤ کے نتیجے میں وزیر اعظم مودی پر پچھلے سال کی طرز کا ملک گیر لاک ڈاون نافذ کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہیں مذہبی تقریبات میں بڑے اجتماعات کی اجازت دینے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران کیسز میں اضافے کے باوجود، بڑی انتخابی ریلیوں کے انعقاد کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔